سینٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے عمران خان کے قریبی دوست ذلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملہ پر وزارت داخلہ سی3 روز میں رپورٹ طلب کر لی

عام انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر دہشتگردی سے متعلق خفیہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں ،دہشتگرد انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں ، سیاسی رہنماوں اور الیکشن عملے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں, بیرونی قوتیں الیکشن کو سبو تاژ کرنا چاہتی ہیں،سپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک کی کمیٹی کو بریفنگ انسانی سمگلنگ ایک خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ، ایف آئی اے جامع رپورٹ جمع کرائے ،وزارت داخلہ، انسانی سمگلرز کیخلاف کریک ڈان شروع کرے ، چیئرمین کمیٹی کے ریمارکس

بدھ جون 19:50

Aاسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو سپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک کی طرف سے بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہے کہ عام انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر دہشتگردی سے متعلق خفیہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں ،دہشتگرد انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں۔سیاسی رہنماوں اور الیکشن عملے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

بیرونی قوتیں الیکشن کو سبو تاڑ کرنا چاہتی ہیں،کمیٹی نے عمران خان کے قریبی دوست ذلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملہ پر وزارت داخلہ سے تین روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ نادرا میں ڈیٹا لیکس معاملے پر چیئرمین نادرا کو کمیٹی کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس بدھ کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں سینٹر رحمان ملک کی صدارت میں منعقد ہوا۔

(جاری ہے)

سپیشل سیکرٹری داخلہ نے انتخابات کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئے گئے انتظامات کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن 2018 میں امیدواروں پر دہشتگردی ہو سکتی ہے، الیکشن میں حملوں کے حوالے سے ہمیں یہ تمام انفارمیشن صوبوں کی طرف سے دی گئی ہیں۔ ہمیں بیرونی ممالک سے الیکشن کو سبوتاڑ کرنے کے بھی خدشات ہیں۔ صوبوں نے حساس، انتہائی حساس اور نارمل پولنگ سٹیشنوں کی نشاندہی کی ہے۔

الیکشن کی سیکیورٹی کے لئے ایف آئی اے کا کردار صرف ا میدواروں کی نامزدگی تک تھا۔۔وزارت داخلہ کے 3 سیسنا طیارے الیکشن کی سیکیورٹی پر ہمہ وقت تیار ہونگے۔ رینجرز اور مختلف کانسٹیبلریز کا الیکشن کی سیکیورٹی میں سب سے اہم کردار ہو گا۔ اب روزانہ کی بنیاد پر الیکشن کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے اس حوالے سے تمام کانسٹیبلریز سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ لی جا رہی ہے۔

صوبوں کے درمیان اعلی سطح پررابطہ سازکمیٹی بنانے کے لئے وزیر اعظم ہاؤس اور کابینہ ڈویثرن کو لکھاگیا ہے۔رابطہ ساز کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری داخلہ کرتے ہیں اور تمام صوبوں کے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران اس میں شامل ہوںگے۔ چیرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک کو غیر قانونی اسلحے سے صاف کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسلحہ و انتہاپسندی ایکدوسرے سے انٹر لنکڈ ہے، اسلحہ ختم نہیں ہوگا جب تک انتہاپسندی کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

وقت ہے کہ اب ہم دھشتگردی کیساتھ ساتھ انتہاپسندی کا بھی خاتمہ کریں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ نادرا نے بہت سے سنٹرز بند کئے ہیں، کمیٹی کو وجہ سے آگاہ کیا جائے۔ دور دراز 800 کلومیٹرز سے غریب لوگ سفر کرکے شناختی کارڈز بنانے جاتے ہیں۔ نادرا فوراً بلوچستان کیلئے پانج نادرا وین دیں کہ وہاں کے غریبوں لوگوں کے پاس خود جاکر شناختی کارڈ بنائے۔

سینیٹ بلوچستان میں لوگ ہزاروں کلومیٹر سفر کرکے شناختی کارڈز بنانے جاتے ہیں۔ بلوچستان کو دوسرے صوبے کے برابر مراعات و نادرا دفاتر دیے جائیں۔ نادرا نے بہت سے افسز بند کروائے جو پیچھلے حکومت میں بطور وزیرِداخلہ میں نے کھلے تھے۔ چئیرمین کمیٹی نے سمندر پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی سہولت فراہم کرنے کے معاملے پر ڈی جی نادرا کی سر زنش کر دی۔

چیئرمین نادرا کی موجودگی میں ڈی جی ذوالفقار علی نے بار بار بات کرنے کی کوشش کی جس پر چیئرمین اور ارکان کمیٹی نے ڈی جی نادرا سے پوچھا آپ کون ہیں۔ان کا جواب تھا کہ میں ڈی جی نادرا ہوں۔اس پر چیرمین کمیٹی نے انہیں کہا کہ آپ خاموش ہو جائیں اور مائیک بند کر دیں۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ نادرا پاکستان اوورسیز کو ووٹ دینے کیلئے سافٹ وئیر امسال الیکشن میں زیر استعمال کیوں نہ لا سکے۔

مطلب ہے امسال اوورسیز پاکستانی ووٹ نہیں دے پائیںگے جو افسوس ناک ہے۔ نادرا بتائے کہ کب تک اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ووٹ دینے کا سافٹ وئیرز تیار ہوگا سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے عمران خان کے قریبی دوست کمیٹی ذلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے چھ روز کے لئے نکالنے کے معاملہ پر وزارت داخلہ سے آج جمعرات تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔چیئرمین کمیٹی رحمان ملک نے وزارت داخلہ کے حکام کو مخاطب کرکے کہا کہ زلفی بخاری کا مسئلہ نہایت اہم ہے، قوم حقیقت جاننا چاہتی ہے۔

زلفی بخاری کے مسئلے میں اگر حقیقت ہے تو یہ ہمارے اداروں کیلئے باعث بدنامی ہے۔ وزارت داخلہ ذوالفی بخاری کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دے۔سپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کہا کہ زلفی بخاری کے لئے عمران خان نے نہ تو انہیں فون کیا اور نہ ہی سیکرٹری داخلہ کو فون کیا۔سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں تھا۔

مسلم لیگ ن کے سینٹر جاوید عباسی نے وزارت داخلہ کے حکام سے استفسار کیا کہ ذلفی بخاری کیسے باہر گیا کیوں گیا نام کس نے نکالا ۔میڈیا کے لوگوں کو پتہ نہیں کہ ای سی ایل پالیسی کیا ہی اس پرسپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کہا کہ 2015 میں جو پالیسی تھی اس کو چوہدری نثار نے تبدیل کیا تھا۔نام ای سی ایل میں ڈالنے اور نکالنے کا نظام بھی تبدیل کیا گیا تھا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ جہاں جہاں لفظ فیڈرل گورنمنٹ استعمال ہوا ، اس کو کابینہ سمجھا جائے گا۔یہ قانون ہے پھر اس کے رولز تھے اور اس کے بعد پالیسی ہے۔ ہم اسی پریکٹس کے تحت کام کر رہے تھے۔ وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے کل 700 کیسز کو دوبارہ دیکھنا تھا، ای سی ایل کا تمام فیصلہ کابینہ نے کرنا ہوتا ہے۔جب یہ طے ہو گیا تو کابینہ اور کمیٹی نے ای سی ایل کا فیصلہ کرنا تھا۔

اس سلسلہ کے دوران ایسے لوگوں کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے کیوں کہ اس حوالے سے کوئی کمیٹی موجود نہیں تھیں۔ اس وجہ سے نام ای سی ایل کی بجائے بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا۔سینٹر میاں عتیق نے استفسار کیا کہ 26 منٹ میں لیٹر کیسے جاری ہوا جبکہ کورٹ میں زلفی بخاری نے خود لکھ کے دیا کہ عمران خان نے سیکرٹری داخلہ کو فون کیا۔آیا اس سے پہلے کی کوئی ایسی مثال ہے کہ کسی کو ایسے جلدی جانے کی اجازت دی گئی ہو ۔

سینٹر میاں عتیق نے مزید کہا کہ آج سے پہلے ایک بھی کیس ایسا نہیں ہے کہ بلیک لسٹ بندے کو ایئرپورٹ پر اسی فلائیٹ پر جانے کی اجازت دی گئی ہو۔سینٹر جاوید عباسی نے کہا کہ بلیک لسٹ کی اجازت ہی قانون میں موجود نہیں ،،وزارت داخلہ نے کیسے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا اور نکالا چیئرمین قائمہ کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ کیا کوئی درخواست آئی جس پر زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالا گیا سینٹر جاوید عباسی نے پوچھا کہ اس حوالے سے فون کال کس کو آئی بلیک لسٹ سے نام نکال کر واپس خط کس نے لکھا طریقہ کار کے ساتھ نام نکالنے کا وقت بھی بتایا جائے۔

سپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کمیٹی کو وزات اور ماتحت اداروں کی ورکنگ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت کے ائر ونگ کے پاس اس وقت 3 ہیلی کا پٹرز ہیں۔ائر ونگ میں مزید ہیلی کاپٹرز کا اضافہ کیا جائے گا۔ائر ونگ کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔۔وزارت داخلہ کے ماتحت 9 سول آرمڈ فورسز ہیں۔سپیشل سیکرٹری داخلہ نے مزید بتایا کہ بلٹ پروف گاڑیوں کے اجازت ناموں کی پالیسی انتہائی سخت تھی، بلٹ پروف گاڑیوں کے اجازت ناموں کی نئی پالیسی بنا دی ہے جو آسان ہے۔

ارکان پارلیمنٹ کو سیکیورٹی کلئیرنس سے مستثنی قرار دے دیا ہے۔300ملین روپے اور اس سے زائد ٹیکس دینے والے بھی سیکیورٹی کلئیرنس سے مستثنی ہونگے۔مقامی بلٹ پروف گاڑی خریدنے والے ڈھائی لاکھ جبکہ گاڑی امپورٹ کرنے والے 5 لاکھ فیس دینگے۔سیکیورٹی کلئیرنس کا مقصد جرائم پیشہ افراد کو این او سی کے اجرا کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے انٹر نیشنل این جی اوز سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی این جی اوز کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی این جی اوز کی فنانشل ٹرانزیکشن کو چیک کیا جا رہا ہے۔140 غیر ملکی این جی اوز نے رجسٹریشن کے لئے درخواستیں دیں۔70 این جی اوز کو کلئیر قرار دیکر ان کو رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے۔27 این جی اوز کی رجسٹریشن کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔جن این جی اوز کی رجسٹریشن کی درخواستیں مسترد کی گئی ان کے خلاف ایجنسیز کی رپورٹس تھیں۔سیاسی سرگرمیوں میں ملوث 13 این جی اوز کی رجسٹریشن روک رکھی ہے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ این جی اوز کیلئے ایک خاص قانون سازی کیجائے، کسی کو مکمل اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ این جی اوز کو قانون کے تحت کام کرنا چاہئے اور ہوگا۔ ایک اتھارٹی وزارت داخلہ کے ماتحت تشکیل دی جائے جو این جی اوز کے معاملات دیکھتی رہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون اس حوالے سے ایک ماہ کے اندر ڈرافٹ تیار کرے۔ این جی اوز پر قانون سازی کا معاملہ قائمہ کمیٹی برائے قانون کے حوالے کرتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ انسانی سمگلنگ ایک خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، اس حوالے سے کمیٹی کو ایف آئی اے جامع رپورٹ جمع کرائے۔ وزارت داخلہ،، انسانی سمگلرز کیخلاف کریک ڈان شروع کیا جائے۔ جن لوگوں کو غیر قانونی طریقوں سے سمگل کیا جاتا ہے انسے تفتیش کیا جائے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ڈی پورٹ سمگل شدہ افراد کی ائیرپورٹ پر باقاعدہ تفتیش کیا جائے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ وہ قیدی جو بیگناہ ہیں اپنے کیسز نہیں لڑ سکتے انکے لئے ایک فنڈ کھلا جائے۔ مخیر خضرات سے بیگناہ قیدیوں کی کیسز میں لڑنے اور جرمانہ ادا کرنے کیلئے مدد کی اپیل کیا جائے۔ شروعات کی طور پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سینیٹرز ایک ماہ کی تنخواہ غریب قیدیوں کی فنڈ میں دینے کا اعلان کرتی ہے۔ فنڈ سے ان غریب قیدیوں کی مدد کیجائے جو جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے رہائی نہیں پارہے ہیں۔

چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے چترال میں لوکل خواتین کو ہراساں کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ ایف آئی آئے چترال میں سیاح کے ہاتھوں خواتین کے ہراساں کرنے کے واقعہ کی تفتیش کرے۔ ویڈیو میں ایک سیاح چترال کی مقامی خواتین کو ہراساں کرتے اور ویڈیو بناتے دیکھایا گیا ہے۔ ایف آئی اے ویڈیو بنانے اور خواتین کوہراساں کرنے والے کو معلوم کرکے قانون کے حوالے کردیں۔ جوان نہ صرف لوکل خواتین کیساتھ بدتمیزی کر رہا ہے بلکہ اس عمل کا ویڈیو بھی خود بنا رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات افسوس ناک ہیں اور روک تھام ضروری ہے۔ ایف آئی اے تفتیش کرکے سات دنوں کے اندر کمیٹی کر رپورٹ جمع کرے۔)آچ)