مسلم لیگ ن راولپنڈی کے دو ناراض دھڑوں میں صلح ، سیاسی گہما گہمی زور پکڑ گئی، این اے 60اور62میں بھرپورانتخابی مہم کا آغاز

بدھ جون 20:00

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) مسلم لیگ ن راولپنڈی کے دو ناراض دھڑوں میں صلح کے ساتھ ہی راولپنڈی میں سیاسی گہما گہمی زور پکڑ گئی ہے مسلم لیگ ن راولپنڈی کے امیدواروں نے گزشتہ کئی روز سے جاری جمود توڑتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60اور62میں بھرپورانتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے انتخابی مہم کا آغاز منگل اور بدھ کی درمیانی رات شہر بھر میں بینر زاور پینا فلیکس آویزاں کرنے سے کیا گیا جس میں این ای60سے مسلم لیگ ن کے امیدوارسابق چیئر مین میٹرو بس سروس پنجاب حنیف عباسی نے میٹرو ٹریک کے ستونوں سے اپنی انتخابی مہم کا آغازکرتے ہوئے کمیٹی چوک سے فیض آباد تک تمام ستونوں پر اپنی تصاویر پر مبنی پینا فلیکس آویزاں کروا نے کے ساتھ پورے حلقے میں بینر اور پینا فلیکس آویزاں کر دیئے ہیں دوسری جانب حلقہ این ای62سے مسلم لیگ ن کے امیدوار وسینیٹر چوہدری تنویر کے صاحبزادے بیرسٹر دانیال تنویر چوہدری نے بھی حلقے میں راتوں رات سینکڑوں پینا فلیکس آویزاںکروا دیئے ہیں ادھر مسلم لیگ ن کی جانب سے باضابطہ نمائشی مہم کے آغاز کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی جانب سے پینا فلیکس کی بھرمارہونے سے شہر بھر میں رنگ برنگے پینا فلیکس اوربینروں کی بہار آگئی ہے امیدواروں کی جانب سے عملی اور متحرک مہم کے آغاز کے ساتھ ہی امیدواروں کے حامیوں،سیاسی کارکنوں میںبھی ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر بھی کھلنا شروع ہو گئے ہیں جہاںپر رات گئے کارکنوں کی چہل پہل اور بڑے سائوند سسٹم پرپارٹی ترانوں کی گونج سے رونقیں دوبالا ہو گئیں ہیں یاد رہے کہ سینیٹر چوہدری تنویر احمد خان اور میٹروبس سروس کے چیئر مین محمد حنیف عباسی کے درمیاں دیرینہ رنجش شدید اختلافات میں تبدیل ہو چکی تھی اورآئندہ عام انتخابات کے لئے پارٹی کی جانب سے ٹکٹوں کی حالیہ تقسیم کے دورانیہ اختلافات ذاتی حیثیت اختیار کر چکے تھے جس پر دونوں قائدین اور ان کے فرنٹ لائن حامی ایک دوسرے کے خلاف کھلی انتخابی مہم کے لئے تیار تھے دونوں گروپوں میںتنائو کی وجہ سے مسلم لیگ راولپنڈی کے کارکنان اور حامی مسلسل بے چینی اور تشویش کا شکار تھے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی جانب سے اعلانیہ انتخابی مہم شروع نہ ہونے پر دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدوار بھی سست روی کا شکار تھے لیکن اب دونوں گروپوں میں صلح ہونے اور مسلم لیگ ن کے جھنڈے تلے مشترکہ انتخابی مہم چلانے کے اعلان کے ساتھ ہی راولپنڈی میں سیاسی صورتحال بھی یکدم تبدیل ہو گئی ہے ۔