آئندہ چار روز کے اندر تمام آئل ٹینکرز ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل منتقل کردیئے جائیں ، سپریم کورٹ آف پاکستان

کے ایم سی نے بہت اچھا کام کیا ہے اور ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل میں ٹینکرز کی پارکنگ کے لئے تمام سہولیات دستیاب ہیں

بدھ جون 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئل ٹینکرز مالکان کو حکم جاری کیا ہے کہ آئندہ چار روز کے اندر تمام آئل ٹینکرز ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل منتقل کردیئے جائیں ، سپریم کورٹ کی طرف سے یہ حکم میئر کراچی وسیم اختر، سپریم کورٹ کے نمائندے ، ضیاء اعوان ایڈوکیٹ، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندے کے ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کے دورے کی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے کے بعد جاری کیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ کے ایم سی نے بہت اچھا کام کیا ہے اور ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل میں ٹینکرز کی پارکنگ کے لئے تمام سہولیات دستیاب ہیں لہٰذا آئل ٹینکرز کی یہاں منتقلی میں کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، قبل ازیں میئر کراچی وسیم اختر نے بدھ کی سہ پہر سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت سپریم کورٹ کے نمائندے، ضیاء اعوان ایڈوکیٹ، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندے کے ہمراہ ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل میں ٹینکرز کی پارکنگ کے لئے تمام انتظامات مکمل ہیںلہٰذا آئل ٹینکرز مالکان اپنے آئل ٹینکرز فوری یہاں منتقل کریں ،انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں یہ تمام کام کئے گئے ہیں اور ان کا مقصد شیریں جناح کالونی اور شہر کے دیگر علاقوں میں آئل ٹینکرز کی پارکنگ کے باعث پیدا ہونے والے مسائل سے شہریوں کو نجات دلانا ہے لہٰذا آئل ٹینکرز مالکان اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد میں بلاتاخیر اپنے حصے کا کردار ادا کریں، ٹرمینل کے آغاز کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے لئے مشکور ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس ٹرمینل پر آئل ٹینکرز مالکان ، ڈرائیورز اور دیگر متعلقہ افراد کے لئے تمام تر سہولیات فراہم کردی گئی ہیں، ہم نے اس ٹرمینل کو فعال کردیا ہے اب یہ آئل ٹینکرز مالکان اور دیگر متعلقہ اداروں اور افراد کی ذمہ داری ہے کہ اسے جلد از جلد آباد کریں ، ٹرمینل میں 3200 آئل ٹینکرز پارک کرنے کی گنجائش ہے جبکہ 10 ہزار افراد کے لئے انفراسٹرکچر دستیاب ہے، انہوں نے کہا کہ ٹرمینل میں پولیس چوکی، سب فائر اسٹیشن، ڈسپنسری، مسجد، وضوخانے، کینٹین اور ریسکیو یونٹ سمیت دیگر سہولیات دستیاب ہیں اورٹینکرز کے لئے بنائے گئے نظام کے تحت آئل ٹینکرز کی فلنگ کے لئے چھ ٹائم زون مقرر کئے گئے ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ آئل ٹینکرز کی شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً شیریں جناح کالونی میں پارکنگ کے باعث نہ صرف وہاں کے رہائشیوں کیلئے تکلیف دہ تھا بلکہ وہاں موجود اسپتالوں میں آنے والے مریضوں، یونیورسٹیز، کالجز اور اسکولوں کے طالبعلموں کو بھی مشکلات کا سامنا تھا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت آئل ٹینکرز کی منتقلی کیلئے بورڈ آف ریونیو نے ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز ٹرمینل کی تعمیر کیلئے 200 ایکڑ اراضی کے ایم سی کے حوالے کی گئی اور کے ایم سی نے تمام تر مشکلات اور مالی دشواریوں کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس منصوبے کو مکمل کرکے یہ ثابت کردیا کہ اگر وسائل نہ بھی ہوں اور ہمت و جذبہ موجود ہو تو ہم ہر کام کرسکتے ہیں۔

ایک جانب عدالت عظمیٰ کے احکامات تھے جبکہ دوسری جانب ہمارے سامنے شہریوں کا معاملہ تھا اس لئے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم نے اس منصوبے کو مکمل کیا ،انہوں نے کہا کہ ٹرمینل کے لئے خصوصی طور پر نیشنل ہائی وے پر 36 فٹ چوڑی دو رویہ سڑک بھی تعمیر کی گئی ہے جبکہ 54 انچ قطر کی پانی کی لائن سے منسلک 150 ہزار گیلن کی گنجائش پر مشتمل انڈرگرائونڈ اور 60 ہزار گیلن کی گنجائش پر مشتمل بالائی ٹینک بھی تعمیر کیا گیا ہے، ٹینکرز کیلئے بنائے گئے نظام کے تحت آئل ٹینکرز کی فلنگ کے لئے 6 ٹائم زون مقرر کئے گئے ہیں ہر چار گھنٹے بعد آئل ٹینکرز کو فلنگ کیلئے بھیجا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ منتخب بلدیاتی قیادت نے اختیارات اور فنڈز نہ ہونے کے باوجود مختصر عرصے میں جس طرح کراچی کی بہتری ،ترقی اور خوشحالی کے لئے ہر سطح پر جو کام انجام دیئے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، واضح رہے کہ میئر کراچی وسیم اختر نے 27 جولائی 2017 ء کو اس ٹرمینل کا ایک پروقار تقریب میں باقاعدہ افتتاح بھی کیا تھا۔