وفاقی حکومت ایمنسٹی اسکیم2018کی آخری تاریخ میں کم ازکم ایک سے دو ماہ تک توسیع کرے، کراچی چیمبر کا مطالبہ

بدھ جون 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر مفسر عطاملک نے وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ ایمنسٹی اسکیم2018کی آخری تاریخ میں کم ازکم ایک سے دو ماہ تک توسیع کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس اسکیم سے مستفید ہوسکیںاور پرکشش ٹیکس شرح پر بیرون ملک رکھے گئے اثاثوں کو ظاہر کرکے انہیں واپس لاسکیں۔

ایک بیان میں کے سی سی آئی کے صدر نے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم کو اب تک وہ توجہ نہیں ملی جس کی امید کی جارہی تھی جس کی وجہ حال ہی ماہ رمضان اور چار متواتر چھٹیاں ہیں جن کے باعث وہ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاپائے۔ اب جب کہ صرف 9 دن باقی ہیں جن میںسے آخری 3 تین روز جمعہ، ہفتہ اور اتوار آرہے ہیں انہیں مدنظر رکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ جو افراد اس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے بیرون ملک رکھے گئے اثاثے ظاہر کرنا بھی چاہتے ہیں وہ کم وقت ہونے کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر رہیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جمعے کو تمام خلیجی ممالک میں تعطیل ہوتی ہے اور ہفتہ کو ہاف ڈے جبکہ اتوار کے روز امریکا کے شہر نیویارک میں بینکوں کی ہفتہ وار چھٹی ٍہوتی ہے لہٰذا ان تینوں دنوں میں ترسیلات زر ممکن نہیں۔مفسر ملک نے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے حکومت کو آخری تاریخ بڑھا کر کم ازکم ایک سے دو ماہ کی توسیع کرنی ہو گی بصورت دیگر یہ اسکیم سود مند ثابت نہیں ہوگی۔

اگر یہ ایمسنٹی اسکیم حقیقت میں 30جون کو ختم کر دی گئی تو اس اسکیم کو کامیاب بنانے کی تمام تر کوششیں اور وسائل ضائع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ آنے والے عام انتخابات سے پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی کے باعث کئی افراد کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے کہ وہ پچھلی حکومت کی جانب سے اعلان کی گئی اس ایمسنٹی اسکیم سے فائدہ اٹھاسکیں۔کئی اہم ٹیکس دہندگان اس اسکیم سے مستفید ہونا چاہتے ہیں لیکن وہ دیکھو اور انتظار کرو کی کیفیت میں بھی رہے کیونکہ معزز سپریم کورٹ آف پاکستان اس اسکیم کا جائزہ لے رہی تھی اور حال ہی میں عدالت عالیہ نے اسے گرین سگنل دے دیا۔

انہوں نے اس اسکیم کے ٹیکس جمع کرانے اور بیرون ملک اثاثوں کو ظاہر کر کے واپس لانے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے متعلقہ نوٹیفیکیشن کا حوالہ دیا جو فارن ایسیٹس آرڈیننس 2018 کے تحت ٹیکس جمع کرانے اور بیرون ملک اثاثوں کو واپس لانے کے پورے طریقہ کار کو وضع کرتا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن میں ٹیکس دہندگان کو یہ مشورہ دیا گیاہے کہ وہ ایف بی آر کے پورٹل پر الیکٹرونکلی فارم اے کو پُر کریں اور بیرونی اثاثوں پر لاگو ہونے والے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے پی ایس آئی ڈی بنائیں جو اسی روز ادا کرنا ہوگا تاہم ایک دن میں یہ ممکن نہیں بالخصوص ایسی صورتحال میںجب کوئی ٹیکس گزار دبئی سے ٹیلی گرافک ٹرانسفر( ٹی ٹی) کے ذریعے ٹیکس ادائیگیاں کرنا چاہتا ہو جو دوسرے دن مکمل ہوتی ہے۔

ایمسنٹی اسکیم کے تحت ٹیکس ادا کرنے کے اس متنازع طریقہ کار کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔مفسر ملک نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس ادائیگیاں اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ منتقل کرنے کے بعد وائر ٹرانسفر یا سویفٹ میسیج کی کاپی فیلڈ 72 میں ٹیکس گزار کے شناختی کارڈ اور این ٹی این کے ساتھ اسٹیٹ بینک کو الیکٹرونکلی ارسال کریں جو کہ عملی طور پر ممکن نہیں ہوسکتا جب ٹیکس گزار کا بیرون ملک بینک اکاؤنٹ ہی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اچھا ہونے کا بہت واویلا کیا گیا لیکن فی الوقت یہ اسکیم ملک میں اربوں ڈالر کے اثاثے بیرون ملک سے واپس لانے میں کامیاب ہوتی نظر نہیںآرہی لہٰذا اسکیم کی مدت میں توسیع کی جائے۔ کے سی سی آئی کے صدر نے امید ظاہر کی کہ نگراں حکومت جسے گھٹتے ہوئے غیر ملکی زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے وہ پوری صورتحال کاجائزہ لیں گے اور اس تناظر میں ایمسنٹی کی آخری تاریخ میں توسیع کریں گے۔

نگراں حکومت 30جون کو ختم ہونے والی ایمنسٹی اسکیم اگلے دوماہ کے لیے بڑھائی جاسکتی ہے کیونکہ یہ اسکیم اب فنانس بل کا حصہ ہے۔ہماری سمجھ بوجھ کے مطابق مالیاتی امور میں نگراں حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ بڑے فیصلے بھی کرسکتی ہے۔انہوں نے صدر پاکستان ممنون حسین پر بھی زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا جائزہ لیں اور صدارتی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایمنسٹی اسکیم کی مدت میں توسیع کریں۔