ہم آفات سے پہلے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لائحہ عمل پر کام کررہے ہیں ،یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے ، موسمیاتی تبدیلیوںکے حوالے سے معاہدے کو سراہتے ہیں، آفات کی زد میں رہنے والے ممالک کو موثر اقدامات اٹھانے کیلئے مددگار ثابت ہوتا ہے

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات کا ڈیزاسٹرمینجمنٹ پر دو روزہ عالمی کانفرنس سے خطاب

بدھ جون 22:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس کا افتتاح بدھ کے روز اسلام آباد میں ہوا، کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کا آفات کے حوالہ سے وسیعی تجربہ ، آفات سے متعلقہ فریم ورک پر عالمی سطح پر ہم آہنگی اور ایشیاء پسفیک ریجن کو درپیش ممکنہ خطرات اور ان کا سدباب کے والے سے لائحہ عمل بنانا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ اعظم خان کانفرنس کے افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ایشیاء پسیفک ریجن مخصوص پاکستان متعدد قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے لہذا آفات کے خطرات کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام ممالک آفات سے نمٹنے اور خطرات کو کم کرنے کے شعبہ میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے استقبالیہ اجلاس میں تمام ممالک کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے آفات سے نمٹنے کے حوالے سے طویل المددتی حکمت عملی مرتب کررکھی ہے۔ پاکستان نے 2013میں اس حوالے سے حکومت عملی وضع کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آفات سے پہلے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لائحہ عمل پر کام کررہے ہیں اور یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلیون کے حوالے سے پیر ایگریمنٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ آفات کی زد میں رہنے والے ممالک کو موثر اقدامات اٹھانے کیلئے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بعدازاں ممبر ڈیزاسٹررسک ریڈکشن ادریس محسود نے شراکائ کو کانفرنس کے حوالے سے تفصیلاً آگاہی دی۔ کانفرنس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت سولہ ایشیائی اور یورپین ممالک کے مندوبین شرکت کررہے ہیں۔ کانفرنس میں شریک تمام ممالک اپنے تجربات سے آگاہ کریں گے اور دوسرے ممالک کے تجربات سے رہنمائی حاصل کرکے آفات سے نمٹنے کے شعبے میں موئثر اقدامات کرسکیں گے۔ کانفرنس 20جون سے 21 جون تک جاری رہے گی۔