موجودہ کرپٹ لیڈر شپ کا مستقبل کی سیاست میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا ، اگر شفاف الیکشن ہوگیا تو ایوانوں میں اکثریت نئے چہروں کی ہوگی ، الیکشن اخراجات کے حوالے سے الیکشن کمیشن قوانین کے نفاذ کا عملی ثبوت نہیں دے رہا۔ شفاف انتخاب نہ ہوا تو عوام کا پورے انتخابی نظام سے اعتماد اٹھ جائے گا

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے منصورہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس سے خطاب

بدھ جون 22:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ موجودہ کرپٹ لیڈر شپ کا مستقبل کی سیاست میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔ اگر شفاف الیکشن ہوگیا تو ایوانوں میں اکثریت نئے چہروں کی ہوگی۔ الیکشن اخراجات کے حوالے سے الیکشن کمیشن قوانین کے نفاذ کا عملی ثبوت نہیں دے رہا۔ شفاف الیکشن نہ ہوا تو عوام کا پورے انتخابی نظام سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

پاکستان کے مسائل کا حل متناسب نمائندگی ہے لیکن سیاست پر قابض ظالم جاگیردار اور بے رحم سرمایہ دار متناسب نمائندگی سے ڈرتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے منصورہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں لیاقت بلوچ ، میاں محمد اسلم ، راشد نسیم ، اسد اللہ بھٹو ،حافظ محمد ادریس ، پروفیسر محمد ابراہیم ، اظہر اقبال حسن ، محمد اصغر، حافظ ساجد انور ، سید وقاص جعفری اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام کے اجتماعی شعور پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے، ان کے مینڈیٹ کو چرانے کی نہیں۔ عوام نہیں چاہتے کہ بار بار وہی لٹیرے بھیس اور پارٹیاں بدل کر اقتدار پر قابض ہوں جن کی وجہ سے ملک موجودہ صورتحال سے دوچار ہواہے۔ انہوںنے کہاکہ عوامی مقبولیت کی دعویدار پارٹیوں نے آج تک عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا۔ ایوانوں میں پہنچنے کے بعد انہیں عوامی مسائل یاد نہیں رہتے اور ہر آنے والے الیکشن میں ایک بار پھر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ گلوبلائزیشن کا مقابلہ کرنے کے لیے طاقتور جمہوریت ضروری ہے لیکن ایم ایم اے کے علاوہ کسی پارٹی کے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں اور نہ ہی عوامی خدمت اور ملکی ترقی کا کوئی ایجنڈاہے۔ انہوںنے کہاکہ ایم ایم اے کا منشور قومی ترقی و خوشحالی کا واضح روڈمیپ ہے۔ انہوںنے کہاکہ کراچی جیسے شہر میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور پورے ملک میں اب بھی لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ہیں ان اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنے کے لیے عوام کو روایتی سیاسی پارٹیوں اور بار بار آزمائے ہوئے ناکام سیاست دانوں کی بجائے ایم ایم اے کا ساتھ دینا ہوگا۔

انہوںنے کہاکہ تمام ملکی مسائل کا حل نظام مصطفی کے نفاذ میں ہے اور ایم ایم اے کے منشور کا پہلا نکتہ ہی ملک میں شریعت محمدی کا نفاذ ہے تاکہ پاکستان کو اس کے قیام کے اصل مقصد سے ہمکنار کیا جاسکے۔