نواز شریف نے مستقبل کی لمبی پلاننگ کر لی

شریف خاندان کو معلوم ہے کہ ان کا بیانیہ اس الیکشن میں فائدہ نہیں دے گا،لیکن ان کو اس بات کا یقین ہے کہ جو بیانیہ وہ آج بیچ رہے ہیں اس کا پھل پانچ سال بعد ملے گا،معروف صحافی منصور علی خان کا تجزیہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جون 11:07

نواز شریف نے مستقبل کی لمبی پلاننگ کر لی
لاہور(ارود پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20جولائی 2018ء) معروف صحافی منصور علی خان کا کہنا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ عام انتخابات 25جولائی کو ہی ہوں گے۔تاہم ہمیں کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہئیے کیونکہ 2008ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ہوا تھا تو انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تھے۔منصور علی خان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ایک بزنس مین ہیں اور میری شریف خاندان کے ایک بہت قریی ذرائع سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ نواز شریف کے بیانیے کی وجہ سے تمام الیکٹیبلز پارٹی چھوڑ کر رجا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی دکان میں تو یہی بیانیہ موجود ہے۔

اور یہ اسی طرح بکے گا اور ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ اس کے اندر کیا فائدے ہیں اور کیا نقصانات ہیں۔

(جاری ہے)

اور پاکستان مسلم لیگ ن میں جس نے بھی ٹکٹ لینا ہے وہ اسی بیانیے پر کھڑا ہو کر لے گا،اور ٹکٹ لے کر جائے گا۔لیکن اگر کوئی سمجھے کہ ہم اب جھک جائیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔اور نواز شریف کا یہ بیانیہ انتخابات کے بعد بھی ایسے ہے چلے گا۔منصور علی خان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کو لگتا ہے کہ آج نہیں تو دو تین سال بعد ان کا بیانیہ ضرور بکے گا،ن لیگ یہ بات مان چکی ہے کہ وہ اس بار حکومت نہیں بنا سکتے۔

اور وہ اس بات کے لیے ذہنی طورپرتیار ہیں تا ہم ن لیگ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو بیانیہ انہوں نے آج بیچنا شروع کیا ہے اس کا پھل ان کو پانچ سال بعد ملے گا۔یاد رہے کہ نواز شریف کے نا اہل ہونے کے بعد نواز شریف نے اداروں سے لڑائی کا بیانیہ اپنایا۔اور کہا کہ ا نہیں کرپشن کی بنیاد پر نہیں بلکہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر نا اہل کیا گیا۔نواز کی اداروں سے لڑائی کی بیانئیے کیو جہ سے اب تک ان کو کئی ساتھی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔جن میں سر فہرست چوہدری نثار علی خان ہیں۔جن سے نواز شریف کا 35 سال کا سیاسی رشتہ تھا۔تاہم نواز شریف کسی بھی صورت میں اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔