ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کے پاس صرف 8 ہزار روپے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 12:00

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کے پاس صرف 8 ہزار روپے
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 جون 2018ء) : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کے اثاثوں سے متعلق حیران کُن انکشاف ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے بیان حلفی کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا ذریعہ آمدن صرف اسمبلی کی تنخواہ رہا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کے پاس صرف 8 ہزار روپے ہیں اور وہ اپنی بہن کے مقروض بھی ہیں ۔

فاروق ستار نے زندگی سیاست میں گزار دی مگر ان کے نام پر نہ کوئی گھر یا فلیٹ ہے نہ ہی کوئی بنگلہ ،یہی نہیں ان کے نام پر نہ تو کوئی کاروبار ہے نہ کہیں پر کوئی سرمایہ کاری۔۔فاروق ستار کی بیگم کے نام پر ایک فلیٹ ہے جس کی قیمت صرف 8 لاکھ روپے ہے ۔ فاروق ستار دوبیگمات، والدہ اور دوبیٹیوں کے واحد کفیل ہیں۔

(جاری ہے)

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی کے تین حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

کراچی کے حلقہ این اے 241 کورنگی سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے بتایا کہ میں این اے 241،245 اور 247 سے کاغذات جمع کرا دیئے ہیں. فاروق ستار کے این اے 247سے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ این اے 245سے مسترد کردیئے گئے ۔ این اے 245 میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی پر ریٹرنگ آفسر کے پاس متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی نے رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا کہ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار دو مقدمات میں مفرور ہیں اور انہوں نے کاغزات نامزدگی میں یہ معاملہ چھپایا ہے۔

خیال رہے کہ عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی کے ساتھ ساتھ بیان حلفی جمع کروانے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔جس کے پیش نظر کئی سیاستدانوں نے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہیں کرائے اور خاص طور پر سیف اللہ فیملی نے بھی اسی وجہ سے انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کیا۔ الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق عام انتخابات 2018 میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی تعداد میں الیکشن 2013کے مقابلے میں کمی آئی ہے ‘2013 کے مقابلے میں 2018 کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کی تعداد کم ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں آئندہ عام انتخابات کے لیے میدان میں اترنے والے امیدواروں کی تعداد میں 7 ہزار کمی واقع ہوئی ہے۔ 2013 میں 28 ہزار 302 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے جبکہ انتخابات 2018 کے لیے 21 ہزار 482 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے امیدواروں کی تعداد 7 ہزار 996 سے کم ہو کر 5 ہزار 473 ہے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے لیے 18 ہزار 825 امیدواروں سے کم ہو کر تعداد 13 ہزار 693 ہوگئی ہے۔

قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص نشستوں پر امیدواروں کی تعداد 350 سے بڑھ کر 436 ہوگئی اور صوبائی اسمبلیوں میں یہ تعداد 821 سے بڑھ کر 1255 ہوگئی ہے۔ قومی اسمبلی کے لیے اقلیتی امیدواروں کی تعداد میں کوئی رد و بدل نہیں ہوا اور 2013 کی طرح اس مرتبہ بھی اقلیتی نشستوں پر 154 امیدوار سامنے آئے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی امیدواروں کی تعداد 310 سے بڑھ کر 471 ہوچکی ہے۔