روتے بلکتے بچوں نے ٹرمپ کو تارکین وطن سے متعلق اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کر دیا

ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے اپنے والد کے علاوہ کئی ارکان گانگرس کو بچوں کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے قائل کر لیا،قومی اخبار کی رپورٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جون 12:16

روتے بلکتے بچوں نے ٹرمپ کو تارکین وطن سے متعلق اپنی پالیسی بدلنے پر ..
امریکہ (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21جون 2018ء) تارکین وطن کے بچوں کو الگ کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑ ا تھا۔۔ٹرمپ کی اس پالیسی کی وجہ سے نیویارک سمیت امریکا بھر میں شہری سڑکوں پر آگئے تھے۔ میکسیکو نے تارکین وطن سے متعلق امریکی رویے کو غیر انسانی قرار دے دیا تھا۔صدرٹرمپ کے تارکین وطن کو داخلے سے روکنے کیخلاف نیویارک، سی آٹل سمیت امریکا بھرمیں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔

تاہم اب تارکین وطن کے روتے بلکتے بچوں نے ٹرمپ کو اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میکسیکو بارڈر پر غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق نیا بیان جاری کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق نئی پالیسی پر دستخط کر دئیے ہیں۔

(جاری ہے)

جس کے تحت امریکا میکسیکو بارڈر پر حراست میں لیے گئے غیر قانونی تارکین وطن کو اب اپنے بچوں کے ساتھ رکھا جائے گا۔

امریکی انتظامیہ نے جنوبی ٹیکساس میں کم سے کم تین مراکز بنارکھے ہیں ، جہاں والدین سے زبردستی جدا کیے جانے والے بچوں کو رکھا جاتا ہے، ان میں بہت سے پانچ سال سےبھی کم عمر ہیں جو والدین سے بچھڑنے پر رو رو کر نڈھال ہوجاتے ہیں ۔روتے بلکتے بچوں نے ٹرمپ کو اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کیا تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روتے بچوں کے مناظر دیکھ کر ان کی بیٹی اور بیوی کو بھی دکھ پہنچا ہے۔

ایوانکا ٹرمپ اگرچہ اس معاملے پر خاموش تھیں لیکن وہ اپنے والد کو بچوں کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے قائل کرتی رہیں۔جب کہ انہوں نے کئی ارکان گانگرس کو بھی قائل کیا۔یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تارکین وطن کے 2 ہزار بچوں کو اپنے والدین سے علیحدہ ایک مرکز میں ٹھہرنے پرمجبور کردیا گیا تھا۔جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کو پوری دنیا میں شدید تبقید کا سامنا کرنا پڑا۔