دُبئی: اہلکار کو رشوت کی آفر کرنے والے مراکشی اور پاکستانی ملزم قانون کی گرفت میں آ گئے

مراکشی ملازم اور اس کے پاکستانی جنرل مینجر نے اہلکار کوپرمٹ جلد از جلد جاری کرنے کی ترغیب دی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جون 12:18

دُبئی: اہلکار کو رشوت کی آفر کرنے والے مراکشی اور پاکستانی ملزم قانون ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21جُون 2018ء) ایک کمپنی کے مراکشی سیلز مین اور پاکستانی جنرل مینجر پر دُبئی سول ڈیفنس کے اہلکار کو فائر الارم کے 38 پرمٹ فوری جاری کرنے کی خاطر پچاس ہزار اماراتی درہم کی رشوت کی ترغیب دینے کے الزام میں عدلالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سول ڈیفنس کا اہلکار اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا جب فائر الارم سیفٹی سسٹم درآمد کرنے والی ایک کمپنی کا مراکشی ملازم اُس کے پاس 38 الارم سسٹم کے پرمٹ بنوانے کے لیے آیا۔

اہلکار کی طرف سے اُسے بتایا گیا کہ پرمٹس بنوانے کے لیے دو سے تین ہفتے کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ جس پر کمپنی کے ملازم نے پوچھا کہ کیا یہ کام کسی طریقے سے جلدی نہیں ہو سکتا۔ اس پر اہلکار نے اپنے سینئر افسران سے بات کر کے مراکشی ملازم کو بتا دیا کہ یہ کام جلدی ہونا ممکن نہیں۔

(جاری ہے)

اس پر مراکشی ملازم نے اہلکار سے اُس کا موبائل نمبر مانگا جو اُس نے سیلز مین کے اصرار کے باوجود اُسے دینے سے انکار کر دیا اور سینئر افسر کو اطلاع کی کہ مراکشی باشندہ اُس کا نمبر مانگ رہا ہے۔

اس پر سینئر افسر نے کہا کہ مراکشی ملازم کا نمبر لے لو تاکہ پتا چل سکے کہ وہ کس لیے نمبر مان رہا ہے؟بعد میں اہلکار نے مراکشی کے دیئے گئے نمبر پر اس سے رابطہ کیا تو اس نے اہلکار کو ایک کیفے میں ملنے کا کہا۔ کیفے میں ملاقات کے دوران سیلز مین نے اُسے 38 سرٹیفکیٹس تین دِنوں کے اندر جاری کرنے پر پچاس ہزار اماراتی درہم کی رشوت کی پیشکش کی۔

اہلکار نے یہ سارا معاملہ افسرانِ بالا اور پولیس کے گوش گزار کر دیا۔ پولیس نے مراکشی ملازم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا جبکہ کمپنی کے پاکستانی جنرل مینجر کو سول ڈیفنس کے اہلکار کو رشوت دینے کے لیے مراکشی ملازم کی مدد اورجُرم میں شریک ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ ملزمان نے عدالت میں اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے۔ جس میں استغاثہ کی طرف سے ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔