غیر قانونی مہاجرین، ’بچوں کو علیحدہ نہیں کیا جائے گا بلکہ پورا خاندان قید ہو گا‘امریکا میں نیا صدارتی حکم

جمعرات جون 12:36

غیر قانونی مہاجرین، ’بچوں کو علیحدہ نہیں کیا جائے گا بلکہ پورا خاندان ..
واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) مریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طور آنے والے خاندانوں کو علیحدہ نہیں کیا جائے گا بلکہ بچوں کو والدین کے ساتھ ’حراستی مراکز‘ میں رکھا جائے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ان بچوں کی تصاویر دیکھ کر کیا ہے جن کے والدین کو امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

لیکن امریکی صدر کے اس فیصلے کا اطلاق اٴْن خاندانوں پر نہیں ہو گا جو پہلے سے منقسم ہو کر رہ رہے ہیں۔امریکی امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ماہ کے دوران دو ہزار 342 بچے کو اٴْن کے والدین سے جدا کیا گیا۔۔ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ میں اور عالمی سطح پر غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کو اٴْن کے بچوں سے علیحدہ کیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

(جاری ہے)

صدارتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ خاندانوں کو اکٹھا رکھنے کے بارے میں ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’مجھے خاندانوں کو علیحدہ ہوتا ہوا دیکھنا اچھا نہیں لگتا‘ لیکن انھوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے امریکہ آنے والوں کے لیے ’زیرو برداشت‘ کی پالیسی جاری رہے گی۔صدر ٹرمپ نے اس سے قبل امریکی قانون دانوں سے استدعا تھی کی کہ اس بل کو منظور کریں جس کے تحت خاندانوں کو علیحدہ کرنا ختم کیا جا سکے۔

صدارتی حکم نامے کے تحت غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے خاندانوں کو اکٹھا قید میں رکھا جائے گا۔ تاہم ایسے کیسز جہاں بچے کی فلاح خطرے میں ہو وہاں بچے کو علیحدہ کیا جائے گا۔ اس آرڈر میں یہ نہیں کہا گیا کہ کتنے عرصے کے لیے بچے کو جدا کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :