موبائل کارڈ پر ٹیکس ختم ہونے کے بعد اب پٹرول سستا ہونے کی باری

چیف جسٹس نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے بڑا حکم جاری کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 12:24

موبائل کارڈ پر ٹیکس ختم ہونے کے بعد اب پٹرول سستا ہونے کی باری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 جون 2018ء) : موبائل کارڈز پر شہریوں سے اضافی ٹیکس وصولی پر ایکشن لینے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور ٹیکسز پر بھی برہمی کا اظہار کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر سوالات اُٹھا دئے،اوگرا حکام نے دوران سماعت بریفنگ دی تو چیف جسٹس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر عدم اطیمنان کا اظہار کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 62 روپے فی لٹر گیسولین برآمد کی جاتی ہے۔ ان کی قیمتوں کا تعین ماہانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ان قیمتوں کے تعین کے لیے بین الاقوامی سطح پر بولی لگائی جاتی ہے جس کے بعد کم بولی لگانے والی کمپنی سے گیسولین حاصل کر لی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے اس رپورٹ کو مجموعی طور پر مسترد کردیا۔ چیف جسٹس نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے عمل پر شکوک و شُبہات کا اظہار بھی کیا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کس قانون اور طریقہ کار کے تحت پٹرول کی قیمت 62.8 روپے فی لٹر کا تعین کیا گیا۔ ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو بتایا کہ مختلف ادارے 300 ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان اداروں سے 300 ارب روپے واپس کیوں نہیں لے رہے اس کا مطلب ہے آپ بینکوں سے قرض لے کر معاملات چلا رہے ہیں۔ ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او یعقوب ستار نے بتایا کہ ہمارے مختلف اداروں پر تین سو ارب روپے واجب الادا ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اخراجات کے لئے بینک سے قرضہ لیتے ہیں کتنا سود ادا کرتے ہیں ۔ یعقوب ستار نے بتایا کہ بینکوں سے 95 ارب روپے قرضہ لے رکھا ہے سالانہ سات ارب روپے سود ادا کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئے کہ گھر بیٹھے بیٹھے قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، لوگوں کو پاگل کر کے رکھ دیا ہے۔ لیکن اب سارا حساب دینا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین ، آکشنز، برآمدات اور ٹیکسز کا چھ ماہ کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے موبائل کارڈز پر اضافی ٹیکس سے شہریوں کی جان چھُڑاوائی اور اب پٹرولیم مصنوعات پر عائد کیا جانے والا اضافی ٹیکس بھی ختم ہونے کی اُمید پیدا کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے چئیرمین ایف بی آر کو کل عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اس معاملے پر سیکرٹری پٹرولیم اور سیکرٹری وزارت توانائی بروز جمعہ طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چئیرمین ایف بی آر کل ہر حال میں عدالت کے سامنے پیش ہوں اور وضاحت کریں۔ چیف جسٹس نے سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری وزارت توانائی، ایم ڈی پی ایس او اور دیگر کو بھی جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کی شفافیت کا جائزہ لینے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور قانون کا جائزہ لیا جائے گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان نے موبائل کمپنیوں کو اضافی ٹیکس معطل کرنے کی ہدایت کی تھی جس سے موبائل صارفین کو کافی ریلیف ملا تھا۔