اسلام آباد ہائیکورٹ کی زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے پر زلفی بخاری کو نیب تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت

آئندہ سماعت پر وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری ذاتی طور پر طلب،سماعت 27 جون تک ملتوی

جمعرات جون 13:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے معاملے پر زلفی بخاری کو نیب تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کردی‘ عدالت نے آئندہ سماعت پر وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری کو ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے معاملے پر جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری کو ذاتی طور پر طلب کرلیا۔ عدالت نے تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے زلفی بخاری کو نیب تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت جاری کردی۔ عدالتی نوٹس پر ایف آئی اے‘ وزارت داخلہ اور نیب کے نمائندے پیش ہوئے۔

(جاری ہے)

وکیل زلفی بخاری نے بتایا کہ میرے موکل برطانوی پاسپورٹ پر سفر کررہے تھے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کا غلط استعمال نہ کریں ایسے تو کوئی بھی چار چار پاسپورٹ بنوا لے۔

وکیل زلفی بخاری نے بتایا کہ میرے موکل کے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہیں عدالت نے وزارت داخلہ کے نمائندے کی سرزنش کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جیسے اس کیس میں پھرتی دکھائی ویسے عام پبلک کے لئے بھی ہونی چاہئے اس کیس کی طرح عام لوگوں کو بھی ایک بار سفر کی اجازت دے دیا کریں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ دیگر کیسز میں تو سفر کی اجازت دینے میں ہفتے لگا دیئے جاتے ہیں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نام بلیک لسٹ میں ہو تو سفری دستاویزات تحویل میں لے لی جاتی ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کی دستاویزات تحویل میں لی گئیں نمائندہ وزارت داخلہ نے بتایا کہ پاسپورٹ زلفی بخاری کے پاس تھا تحویل میں نہیں لیا عدالت نے کیس کی مزید سماعت ستائیس جون تک ملتوی کردی۔