شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت۔ جے آئی ٹی سربراہ کا کام صرف تفتیش کرکے مواد اکٹھا کرنا تھا، کوئی نتیجہ اخذ کرنا جے آئی ٹی کا اختیارنہیں تھا۔خواجہ حارث

پاناما لیکس کے انکشافات منظرعام پر آگئے‘ کمپنی برٹش ورجن آئی لینڈ میں 70، پاناما میں 75 فیصد مالکان شناخت نہ کرسکی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جون 12:53

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت۔ جے آئی ٹی سربراہ کا کام ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 جون۔2018ء) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری ہے جہاں سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کے تیسرے روز بھی حتمی دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث آج بھی ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل دے رہے ہیں۔خواجہ حارث نے عدالت میں سماعت کے آغازپرکہا کہ جے آئی ٹی ایک تفتیشی ایجنسی تھی، تفتیش کے لیے قانون وضع ہوتا ہے کیا قابل قبول شہادت ہے کیا نہیں ہے۔سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ معمول کا کیس ہوتا تومعاملہ تفتیش کے لیے نیب کے سپرد کیا جانا تھا، نیب تفتیش کرتا اورپھر ریفرنس دائر ہوتا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے کہا جے آئی ٹی کے پاس تفتیش کے اختیارات ہوں گے، جے آئی ٹی کونیب اورایف آئی اے کے اختیارات بھی دیے۔ عدالتی حکم کے مطابق جے آئی ٹی مکمل تفتیشی ایجنسی ہی تھی۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ161 کے بیان کواپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کرسکتا جبکہ ملزم چاہے تو 161 کے بیان کواپنے حق میں استعمال کرسکتا ہے۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی سربراہ کا کام صرف تفتیش کرکے مواد اکٹھا کرنا تھا، کوئی نتیجہ اخذ کرنا جے آئی ٹی کا اختیارنہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے مواد کی روشنی میں ریفرنس دائرکرنے کا کہا۔خیال رہے کہ گزشتہ روزاحتساب عدالت میں سماعت کے دوران خواجہ حارث نے حتمی دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ لندن فلیٹس کبھی نوازشریف کی ملکیت میں نہیں رہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ میرے موکل کی توملکیت ہی ثابت نہیں ہے، ملکیت ثابت ہوتی تو آمدن اور اثاثوں میں تضاد کی بات ہوتی۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری پراسیکیوشن پرعائد ہوتی ہے اور بعد میں بارِ ثبوت ملزمان پرڈالا جاتا ہے لیکن یہاں استغاثہ نے پہلے ہی بارِ ثبوت ملزمان پرڈال دیا ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے نوازشریف کی آمدن کے معلوم ذرائع سے متعلق دریافت نہیں کیا اور نہ ہی دوران تفتیش نوازشریف کے ذرائع آمدن کا پتا چلایا گیا۔دوسری جانب پاناما پیپرز کی نئی سنسنی خیز تفصیلات منظرعام پرآگئی ہیں اور اِن نئی معلومات میں اپریل 2016 سے دسمبر 2017 تک کی 12 لاکھ دستاویزات شامل ہیں۔دستاویزات میں 2016 سے 2017 تک ای میلز، پاسپورٹس، اور مقدمات کی فائلیں شامل ہیں۔

پاناما میں آف شور کمپنیاں بنانے میں معاون قانونی فرم موزیک فونسیکا اپنے 75 فیصد کلائنٹس سے بےخبرتھی۔ نئی دستاویز میں ہونے والے انکشاف کے مطابق پاناما پیپرز کمپنی برٹش ورجن آئی لینڈ میں 70، پاناما میں 75 فیصد مالکان شناخت نہ کرسکی۔ کمپنی نے اپنے کلائنٹس ڈھونڈنے کے لیے 2016 میں سرتوڑ کوششیں کی۔، اس کے علاوہ موزیک فونسیکا اپنے موکلوں کی شناخت میں مصروف رہی۔

ریکارڈ افشا ہونے کے 2 ماہ بعد بھی فونسیکا پاناما کی 75 فیصد آف شور کمپنیوں کے مالکان کی شناخت نہ کرسکی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق موزیک فونسیکا نے 2016 میں لیک اپنے موکلوں کی ساڑھے 11 ملین فائلیں دیکھیں۔ نئی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ موزیک فونسیکا نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کے لیے اپنا کاروباری نام بدلا اور ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا۔

فونسیکا نے کمپنی مالکان سے پاسپورٹ کاپی، گیس بل اورریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگناشروع کردیئے۔ موزیک فونسیکا نے ہردوسرے روز موکلوں کو ای میل پر ای میل بھیجنا شروع کردیں۔اپریل 2016 کو پاناما پیپرز سامنے آتے ہی موزیک فونسیکا میں پریشان موکلوں کی ای میلز کا تانتا بندھ گیا۔نئی دستاویزات کے مطابق بیشتر پریشان موکل یہ جاننا چاہتے تھے کہ ”بینی فیشل اونرشپ“ سے متعلق حساس معلومات افشا تو نہیں ہوگئیں۔

سوئس وکیل نے کمپنی کو فوری بند کرنے کی درخواست کی جس پر فونسیکا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینک کاریفرنس لیٹر دیں جس پر سوئس وکیل نے جواب دیا پاناما میں تم احمق بیٹھے ہو، قانون کے تحت ہو تو ریگولیٹر تمھیں بند کرڈالے۔پریشان فرانسیسی مشیر نے فونسیکا کو ای میل کی جس میں انہوں نے کہا کہ میرانام اپنی تمام فائلوں سے ڈیلیٹ کردو۔ لکسمبرگ سے بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کلائنٹ کے نمائندے نے لکھا کہ پاناما پیپرز کی وجہ سے اس کے موکل کو کینیڈا میں مشکلات کا سامنا ہے اس لیے پتا فوراً بدلا جائے۔

سوئس مینیجر کی جانب سے بھیجی جانے والی ای میل میں کہا گیا کہ ای میلزبھیج کرتم قائل کرنےکی کوشش کررہے ہو کہ صورتحال پرقابوپالوگے، 11 لاکھ 60 ہزار دیگر دستاویزات کی طرح یہ دستاویزات بھی شاید سامنے آجائیں، پرواہ نہیں۔

Your Thoughts and Comments