خامنہ ای انسداد دہشتگردی اور منی لانڈرنگ کے عالمی معاہدے میں ایران کی شمولیت پر معترض

ایران ایسے کسی معاہدے میں شامل نہیں ہو گا جو صرف بڑی طاقتوں کے مفاد میں ہو، ایران جابر قوتوں سے خائف ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا،ایرانی روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای

جمعرات جون 13:58

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ایران کے روحانی پیشواآیت اللہ علی خامنہ ای نے انسداد دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے عالمی معاہدے میں ایران کی شمولیت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے پارلیمنٹ((مجلس شوری)سے متبادل قانون سازی کا مطالبہ کر دیا، ایران ایسے کسی معاہدے میں شامل نہیں ہو گا جو صرف بڑی طاقتوں کے مفاد میں ہو، ایران جابر قوتوں سے خائف ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای نے انسداد دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے عالمی معاہدیFATF میں ایران کی شمولیت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ((مجلس شوری)سے اس معاہدے کے متبادل قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے ایران نے بین الاقوامی ایکشن گروپ برائے انسداد دہشت گردی ومنی لانڈرنگ میں شمولیت کے لیے مزید دو ماہ کی تاخیر کی منظور دی تھی جب کہ اقوام متحدہ کے معاہدہ برائے انسداد جرائم میں شمولیت پررائے شماری کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹیلی ویژن پر نشر ایک بیان میں کہا کہ ایران ایسے معاہدوں کا حصہ نہیں بنیگا جو صرف بڑی طاقتوں کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایران ایسے ممالک کے خلاف ووٹ دے گا یا ان ممالک کے ساتھ کھڑا ہوگا جو ان جابر قوتوں سے خائف ہیں۔گذشتہ ماہ بھی ایرانی مجلس شوری نے FATF میں شمولیت کی کوشش کی تھی مگر پارلیمنٹ کو اس میں ناکامی ہوئی تھی۔

ایران نے شدت پسند مذہبی حلقے اس معاہدے کو استعماری سمجھوتہ قرار دیتے ہیں۔ تہران کی شمولیت کے بعد ایران کو دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ روکنا پڑے گی اور ایسا کرنے کی صورت میں ایران کا احتساب کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب یورپی یونین ایران پر مسلسل انسداد دہشت گردی کے عالمی سمجھوتے میں شمولیت کے لیے دبا ڈال رہی ہے۔ اس معاہدے میں ایران کی شمولیت چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پائے جوہری معاہدے میں شامل تھی مگر تہران ابھی تک اس شق پرعمل درآمد میں ناکام رہا ہے۔