لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے ،ْ چیف جسٹس ثاقب نثار

سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری وزارت توانائی، چیئرمین ایف بی آر ، ایم ڈی پی ایس او اور دیگر کو پیش ہونے کا حکم

جمعرات جون 14:19

لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے ،ْ چیف جسٹس ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت اور ان پر اضافی ٹیکس کے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے۔۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور اضافی ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ڈپٹی ایم ڈی پاکستان اسٹیٹ آئل یعقوب ستار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف ادارے پی ایس او کے 300 ارب روپے کے نادہندہ ہیں جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان اداروں سے 300 ارب روپے واپس کیوں نہیں لے رہی اس کا مطلب ہے آپ بینکوں سے قرض لے کر معاملات چلا رہے ہیں جس پر یعقوب ستار نے انکشاف کیا کہ پی ایس او نے بینکوں سے 95 ارب روپے قرض لے رکھا ہے، ہر سال اس پر سود کی مد میں 7 ارب روپے ادا کئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی ایم ڈی پاکستان اسٹیٹ آئل کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر لوگوں کو پاگل کردیا ہے ،ْ یہ کس بات کا ٹیکس ہے سارا حساب دینا ہوگا ،ْ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا عمل بھی مشکوک لگتا ہے، کس قانون اور طریقہ کار کے تحت 62.8 روپے فی لیٹر کا تعین کیا گیا سپریم کورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات، گزشتہ 6 ماہ کے آکشنز (بولی) اور قیمتوں کے تعین کا ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری وزارت توانائی، چیئرمین ایف بی آر ، ایم ڈی پی ایس او اور دیگر کو جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔