پنجاب میں چنے کی کاشت کا رقبہ 24لاکھ ایکڑ سے تجاوز

جمعرات جون 14:44

فیصل آباد۔21 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پنجاب میں تقریباً24لاکھ ایکڑ رقبہ پر چنے کی کاشت ہوتی ہے جس میں سے 92فیصد رقبہ بارانی علاقوں پر مشتمل ہے اور ان بارانی علاقوں میں تھل کے اضلاع بھکر، خوشاب، لیہ، میانوالی اور جھنگ شامل ہیں۔ زرعی ماہرین نے بتایاکہ پاکستان میں چنے کی زیادہ تر دیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں جب کہ ہمارے ملک میں کابلی چنے کی کھپت میںروز بروز اضافہ ہورہا ہے لہٰذاپاکستان میںکابلی چنے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایران ، آسٹریلیا اور ترکی سے کابلی چنے کی د رآمد کی جاتی ہے تاہم کابلی چنے کی ستمبر کاشتہ کماد اور دھان کے بعد آبپاش علاقوں میں کاشت کو فروغ دے کر اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ چونکہ پاکستان میں کابلی چنے کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گیاہے اور ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنے کی درآمد شروع کردی گئی ہے جبکہ غیر ملکی درآمد پر انحصار ختم کرنے کیلئے کاشتکاروں کو کابلی چنے کا زیر کاشت رقبہ بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس ضمن میں ماہرین زراعت اور محکمہ زراعت کو بھی خصوصی ٹاسک سونپاگیا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ ملکی ضروریات میں اضافہ کے باعث چنے اور مسور کے زیر کاشت رقبہ کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان فصلوں کی کاشت بڑھانے سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دالوں کی درآمد کو کم کرکے زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔انہوںنے بتایا کہ پھلی دار اجناس ہونے کی وجہ سے چنے اور مسور کی دونوں فصلیں ہوا سے نائٹروجن حاصل کرکے زمین میں شامل کرتی ہیں جس سے زمین کی ذرخیزی بحال رہتی ہے ۔

انہوںنے بتایاکہ بارانی علاقوں میں چنے کی زیادہ تر دیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں لیکن کابلی چنے کی مانگ بڑھ رہی ہے جسے پورا کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنا درآمد کیا جارہا ہے لہٰذااس کی درآمد کو کم کرنے کیلئے کابلی چنے کے زیر کاشت رقبہ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے چند سالوں کی نسبت مسور کی فی ایکڑ پیداو ار میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ زائد بارشیں اور جڑی بوٹیوں کی بہتات اور منظور شدہ اقسام اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو نہ اپنانا شامل ہے۔

انہوںنے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ چنے اور مسور کی فی ایکڑ پیداوار میںاضافہ کیلئے کھادوں کے مناسب اور متناسب استعمال ،کیڑوں اور بیماریوں کے انسداد کیلئے جدید تحقیق کی روشنی میں جاری کردہ سفارشات پر عملدرآمد کیاجائے تاکہ پیداوار میںاضافہ کو یقینی بنایاجاسکے۔