چین کو اپنی بنیادی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کا حق حاصل ہے

’’ساختہ چین 2025‘‘حکمت عملی بارے الزامات غیر منصفانہ ہیں وانگ جونگ

جمعرات جون 14:56

چین کو اپنی بنیادی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کا حق حاصل ہے
بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ساختہ چین 2025‘‘کے بارے میں الزمات غیر منصفانہ ہیں اور چین آئندہ برسوں میں اس حکمت عملی پر یقیناً قائم رہے گا اور جدید صنعتوں میں غیر ملکی کمپنیوں کو کافی نئے مواقع فراہم کریگا یہ تبصرہ یورپی ایوان کے بزنس اعتماد سروے کے بعد کیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ’’ساختہ چین 2025‘‘حکمت عملی پلینگ فلیڈ کو چینی کھلاڑیوں کے حق میں تبدیل کر رہی ہے،532جواب دہندگان کے 43فیصد نے کہا کہ انہوں نے’’ منصوبے کے تحت بڑھتا ہوا امتیاز پایا ہے ‘‘یہ سروے چین میں یورپی یونین ایوان تجارت اور رولینڈ برگر سٹیٹیجی کنسلٹنٹس کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، بین الاقوامی اقتصادی ایکسچینجگ کے چینی مرکز کے شعبہ معلومات کے ڈپٹی ڈائریکٹر وانگ جونگ نے کہا کہ یہ دعویٰ قطعی غیر منصفانہ ہے اور چین کی’’ساختہ چین 2025‘‘حکمت عملی کو غلط سمجھنے کے مترادف ہے۔

(جاری ہے)

یہ حکمت عملی مینوفیکچرنگ ملک سے جرمنی کے’’ انڈسٹری 4.0‘‘کی طرح کے جدید صنعتی ترقی یافتہ ملک میں تبدیلی کے مقصد کے لیے ضروری اور اہم ہے، انہوں نے کہا کہ چین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی بنیادی ٹیکنالوجی کو ترقی دے جس پر کسی کو نقطہ چینی نہیں کرچاہیے اورہم یقیناً اس پر کاربند رہے گے۔