بارودی سرنگیں بچھانے والے دہشت گردوں پر پابندی عائد کی جائیں،

ریاض سیمینار میں شرکاء کا مطالبہ بارودی سرنگوں سے متاثرین کی بڑھتی تعداد باعث تشویش ہے، ذہنی و سماجی اصلاح کے مراکز قائم کئے جائیں

جمعرات جون 15:05

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ریاض سیمینار کے شرکانے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بارودی سرنگیں بچھانے والے دہشت گردوں پر پابندی عائد کی جائیں، سرنگوں سے متاثرین کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے،بارودی سرنگوں سے متاثرین کی مدد کیلئے ذہنی و سماجی اصلاح کے مراکز قائم کئے جائیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاض سیمینار کے شرکانے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بارودی سرنگیں بچھانے والے دہشت گردوں پر پابندی عائد کی جائیں۔

یمن میں بارودی سرنگو ں کے جنگل نے یمنی شہریوں کی زندگی اجیرن کردی۔ سرنگوں سے متاثرین کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ذرائع ابلاغ آگہی مہم چلا کر مقامی باشندوں کو سرنگوں کے خطرات اور ان سے بچاکے طور طریقوں سے آگاہ کریں۔

(جاری ہے)

حوثیوں نے بارودی سرنگیں بچھانے کیلئے بچوں سے بھی کام لیا ہے ۔ انہیں ڈیڑھ سو ڈالر دے کر بارودی سرنگیں بچھوائی گئی ہیں۔

اس قسم کے بچے کی ذہنیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ انہیں مستقبل میں معاشرے کے معمار کے طور پر کام کرنے کے سلسلے میں مشکلات آئیں گی۔ شرکاکا کہنا ہے کہ حوثی تخریب کاری اور تباہ کاری جو جنگ کا عنوان دیئے ہوئے ہیں۔ یہ جس علاقے سے بھی شکست کھاکر پسپائی اختیار کرتے ہیں وہاں کوئی چیز بھی صحیح حالت میں نہیں چھوڑتے۔ یمنی افواج اور عرب اتحادیوں کو سب سے زیادہ مشکل بارودی سرنگوں کی صفائی کے سلسلے میں پیش آرہی ہے۔

شرکانے بارودی سرنگوں سے متاثرین کی مدد کیلئے ذہنی و سماجی اصلاح کے مراکز قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ سیمینار میں یمن کے وزیر برائے انسانی حقوق محمد عسکر ، شاہ سلمان امدادی مرکز میں طبی امداد کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ المعلم ، یمنی وزارت دفاع کے اعلی عہدیدار بریگیڈیئر حسین الہیال ، یمن میں انسانی حقوق کے مرکز کے ڈائریکٹر ولید الابارہ اوردیگر شامل تھے۔

متعلقہ عنوان :