کرنٹ اکائونٹ خسارہ 16ارب ڈالر تک پہنچنا تشویشناک ہے ‘راجہ وسیم حسن

برآمدات میں اضافہ سے ہی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اورکرنٹ و تجارتی خسارہ میں کمی ہوگی برآمدات میں اضافہ کیلئے صنعتی شعبہ کیلئے سستی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے ‘نائب صدر لوہا مارکیٹ شہید گنج

جمعرات جون 15:12

کرنٹ اکائونٹ خسارہ 16ارب ڈالر تک پہنچنا تشویشناک ہے ‘راجہ وسیم حسن
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) انجمن تاجران لوہا مارکیٹ شہید گنج (لنڈا بازار)لاہورکے نائب صدرراجہ وسیم حسن نے رواں مالی سال جولائی تا مئی میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ15کروڑ 96لاکھ ڈالر تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق مالی سال2017-18میں کرنٹ اکائوٹ خسارہ جی ڈی پی کی5فیصد کے برابر رہنے کی توقع ظاہر کی تھی تاہ درآمدات میں نمایاں اضافہ کی وجہ سے درپیش تجارتی خسارہ کی وجہ سے گیارہ ماہ کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کی5.5فیصد تک پہنچ چکا ہے جس کے باعث حکومت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوا،،برآمدات میں اضافہ کیلئے مثبت اقدامات اور خصوصی مراعات ازحد ضروری ہے برآمدات میں اضافہ سے ہی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اورکرنٹ و تجارتی تجارتی خسارہ میں کمی ہوگی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہید گنج کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔راجہ وسیم حسن نے کہا کہبڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے برآمدات میں اضافہ کیلئے سستی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے کیونکہ خطے کے دیگر ممالک میں گیس اور بجلی کے نرخ پاکستان کے مقابلے میں پچاس فی صدتک کم ہیں اس کے علاوہ وہاں کم اجرتوں پر دستیاب افرادی قوت کے باعث ان ممالک کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوگا اس لیے گیس اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ صنعتی پیداوار پر آنے والی لاگت میں اضافے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں جاری مسابقت میں پیچھے رہی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی جگہ دیگر ممالک کی مصنوعات لے رہی ہیںانہوںنے مزید کہا کہ برآمدا ت میں اضافہ کیلئے مراعات اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادا کیے جائیں کیونکہ برآمدات کنندگان سرمائے کی کمی کا شکار ہیںبرآمدات میں کمی کی ایک یہ بھی اہم وجہ ہے اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ برآمدات کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام کی ضامن ہیں۔