کویت:غیر مُلکی ملازمین کی جانب سے بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے

مہنگائی میں اضافہ اورغیر مُلکی ملازموں کی تعداد میں کمی اہم وجوہات قرار

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جون 14:59

کویت:غیر مُلکی ملازمین کی جانب سے بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر میں نمایاں ..
کویت سٹی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21جُون 2018ء) کویت کے مرکزی بینک کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق 2018ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران غیر ملکی ملازمین کی جانب سے اپنے آبائی ممالک میں بھیجی جانے والی رقوم کی شرح میں 13فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر کی شرح میں کمی کا رحجان 2017ء سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 2017کے دوران ترسیلاتِ زر میں نو فیصد کی کمی واقع ہوئی ۔

جب 2016ء میں غیر ملکیوں کی جانب سے اپنے ملکوں کو بھیجی گئی رقوم 4.56 ارب کویتی دینار کے مقابلے میں 2017ء میں یہ رقوم سمٹ کر 4.14 ارب کویتی دینار پرپہنچ گئی۔ منی ایکسچینج کے کاروبار سے جُڑی ایک کمپنی کا کہنا ہے کہ پہلے غیر ملکیوں کی جانب سے ماہانہ 626 امریکی ڈالر فی کس کے حساب سے بیرونِ ملک ترسیلات کی جاتی تھیں‘ جب کہ اب یہ ترسیلات ماہانہ 545امریکی ڈالر فی کس تک گِر گئی ہیں۔

(جاری ہے)

مرکزی بینک کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران ترسیلاتِ زر کے حجم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ترسیلاتِ زر کا موجودہ حجم 2012ء کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مُلک میں مہنگائی میں ہوش رُبا اضافہ ‘ حکومت کی جانب سے سبسڈیز میں کمی‘ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں چڑھاؤ اور دیگر خدمات کے معاوضوں میں اضافہ ترسیلات زر میں کمی کی اہم وجوہات ہیں۔

جبکہ مملکت میں موجودزیادہ سے زیادہ مقامی باشندوں کو برسرروزگار کرنے کی سرکاری پالیسی کے تحت غیر مُلکی ملازموں کی تعداد میں بتدریج کمی لانا بھی اور غیر مُلکی ملازمین کے دوسری کمپنی کو تبادلے پر فیس کا نفاذ بھی ترسیلاتِ زر کے حجم پر اثر انداز ہوا ہے۔ان سارے عوامل کے باعث غیر مُلکی ملازمین کا مملکت میں قیام و طعام کا خرچہ پہلے کی نسبت زیادہ ہو گیا ہے جس کے باعث وہ اپنے آبائی وطن میں موجود اپنے پیاروں کو پہلے کے مقابلے میں کم رقم بھیجنے پر مجبور ہیں۔