مقبوضہ کشمیر میں حکومت خاتمے ، گورنر راج کے نفاذ سے فوجی مہم پر کوئی اثر نہیں پڑیگا، جنرل بپن راوت

رمضان کے دور ان مجاہدین نے جموں وکشمیر میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں، جس سے ان کے خلاف مہم شروع نہ کرنے کا فیصلہ مرکز کو واپس لینا پڑا، سربراہ ہندوستانی فوج

جمعرات جون 15:15

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حکومت کے خاتمے اور گورنر رج کے نفاذ اسے بھارتی فوجی مہم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ، ماہ رمضان کے دوران مجاہدین نے جموں وکشمیر میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں، جس سے ان کے خلاف مہم شروع نہ کرنے کا فیصلہ مرکز کو واپس لینا پڑا۔

ہندوستانی آرمی چیف جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری فوجی مہم کو گورنر راج سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ،،مقبوضہ کشمیر میں فوجی مہم پہلے کی طرح جاری رہے گی ، فوجی آپریشن پہلے جاری تھا تاہم ماہ رمضان میں ہم نے اس جاری فوجی مہم کو روکنے کا فیصلہ کیا اور سیز فائر کرتے ہوئے ہم نے تمام فوجی آپریشن روک دیئے تھے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ رمضان کے دوران لوگوں کو بغیر کسی پریشانی کے بغیر نمازادا کرنے کا موقع ملے،اس کے باوجود مجاہدین نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، جس کی وجہ سے مہم پرروک لگانے کا فیصلہ منسوخ کردیا گیا۔

(جاری ہے)

بی جے پی کے جموں وکشمیر حکومت سے الگ ہوجانے کے بعد ریاست میں گورنر راج لگائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ اس کا کوئی اثر پڑے گا،ہمارے یہاں سیاسی مداخلت نہیں ہے، آرمی کے کام کرنے کے طور طریقے پر کبھی کوئی بندش نہیں رہی ہے۔جنرل راوت نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں کے اصول کافی سخت ہیں اور انہیں کے مطابق کارروائی کرنی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی آرمی چیف کے نام نہاد سیز فائر کے دوران بھی نہتے اور مظلوم کشمیریوں کا قتل عام جاری رہا ہے اور اس دوران دو درجن سے زائد کشمیری نوجوانوں کو قابض بھارتی فوج نے شہید کیا جبکہ درجنوں بے گناہ کشمیریوں کو شدید زخمی بھی کیا ،گذشتہ روز بھی قابض بھارتی فوج نے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید جبکہ بارودی مواد سے ایک گھر کو مکمل تباہ کر دیا گیا تھا۔

دوسری طرف حالیہ دنوں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے خلاف حریت قیادت نے کل 21جون کو مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ روز مقبوضہ وادی کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد گورنر این این ووہرا نے بھارتی صدر کو رپورٹ بھیج دی تھی اور گورنرراج کی سفارش کی تھی، جس کی آج ہندوستانی صدر نے منظوری دے دی ہے۔۔