افغان علماء کرام نے حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کیلئے ثالثی کا کردار اداکرنے کی پیشکش کردی

طالبان حکومت کی طرف سے فائربندی کی پیشکش قبول کریں اور افغان عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطرفائربندی کا اعلان کرکے حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں،کابل میں جید افغان علمائے کرام اورمذہبی سکالروں کا اجلاس

جمعرات جون 15:18

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) افغان علمائ کرام نے حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا نبھانے کی پیشکش کردی ہے۔ بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں جید افغان علمائے کرام اورمذہبی سکالروں کا ایک اجلاس ہوا ، اجلاس کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علمائے کرام نے طالبان پر زور دیا کہ وہ حکومت کی طرف سے فائربندی کی پیشکش قبول کریں اور افغان عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطرطویل عرصہ تک فائربندی کا اعلان کرکے حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں۔

صوبائی کونسل کے ایک رکن اور جید عالم مولوی عطائ اللہ فیضان نے کہا کہ امن کسی بھی علاقے کی فلاح وبہبود اور ترقی کی ضمانت دیتا ہے اور افغان عوام امن کے لئے ترس رہے ہیں جس کے لئے اب وقت آگیا ہے کہ عملی اقدامات کئے جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ علمائے کرام حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کے لئے تیار ہیں کیونکہ تین روزہ فائربندی سے ظاہر ہوا کہ پوری قوم اب امن اور استحکام چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے عیدالفطر کے موقع پر ملک میں 17 سال بعد پہلی مرتبہ مکمل فائربندی کا اعلان کیا تھا جبکہ افغان حکومت نے فائربندی میں دس روز تک توسیع کردی ہے اور طویل عرصہ تک جنگ بندی اور طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لئے کوشاں ہے۔ ادھر تین روز فائربندی کے خاتمہ کے بعد طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے تیز کئے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں خونریزی کے واقعات میں خطرناک حدتک اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔۔