عام انتخابات کی تیاری اور انتخابی مہم

مسلم لیگ ن نے 71 کمپنیوں کے بیوروکریٹس اور سرکاری افسران سے انتخابی مہم میں مدد لے لی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 15:15

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 جون 2018ء) : عام انتخابات 2018ء کے پیش نظر مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے اُمیدواروں نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ ایک طرف جہاں اُمیدوار اپنی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیے ہوئے ہیں وہیں مسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم کے لیے 71 کمپنیوں کے سرکاری افسران اور بیوروکریٹس کی مدد حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔

ان تمام بیوروکریٹس اور سرکاری افسران نے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق حکومت ختم ہو جانے کے باوجود 71 کمپنیوں میں مسلم لیگ ن کی جانب سے نوازے گئے بیوروکریٹس اور دیگر سرکاری افسران نے ن لیگ کی الیکشن مہم کو ان کمپنیز کے پیسوں اور ذرائع کے ذریعے ن لیگ کے لیے استعمال کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

حال ہی میں 71 میں سے 56 متحرک کمپنیوں کے اہم ترین ذمہ داران اور دیگر افسران کے ن لیگ کی اہم قیادت اور ن لیگ کے چہیتے اعلیٰ بیوروکریٹس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے اہم ترین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ نیب میں ان کمپنیوں کے حوالے سے تحقیقات کے باوجود آج تک بھی ان کمپنیوں کے ذمہ دار افسران اور ملازمین سابق لیگی حکومت کے اہم ذمہ داروں کے احکامات پر نہ صرف عمل کر رہے ہیں بلکہ ان کے نامزد کردہ اہم اُمیدواروں کے کہنے پر کئی کام بھی کئے جا رہے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ ان کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی یہ زبانی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنی اپنی سطح پر ن لیگ کو سپورٹ کریں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اہم اداروں نے نہ صرف ثبوت حاصل کر لئے ہیں بلکہ کچھ افسروں نے اس حوالے سے خود بھی اہم اداروں سے رابطہ کر کے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے یہ بتایا کہ آج بھی یہ 56 کمپنیاں نہ صرف سابقہ حکومت کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ ہمیں بھی ان کے لیے کام کرنے کا کہا جا رہا ہے اور مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم نے سابق حکومت کے لیے کام کریں ۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق ان 56 کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ایل ڈی اے واسا، ٹیپا، بلدیات اور محکمہ آبپاشی سمیت کئی ایسے اداروں میں بھی افسران کے ذریعے ملازمین کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ ن لیگ کے اُمیدواروں کی سپورٹ کریں جبکہ مختلف محکموں میں بنی ہوئی ن لیگ کی ٹریڈ یونینز کو بھی اعلیٰ افسروں کی آشیر باد سے اس کے لیے کہا جا رہا ہے ۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان 71 کمپنیوں میں سے بہت سی ایسی کمپنیاں جو غیر فعال تھیں ان کے لیے حکومت ختم ہونے سے بھی پہلے ہی کئی ایسے فنڈز سائیڈ پر رکھے گئے تھے جو کاغذات میں کسی اور مد میں استعمال ہونا تھے ، لیکن اب وہ فنڈز ن لیگ کی الیکشن مہم پر خرچ کیے جائیں گے جس کے لیے کئی ٹھیکیدار اور کئی اعلیٰ بیوروکریٹس کے قریبی عزیزوں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔