کوٹلی پولیس کو چوروں کا کھلا چیلنج ، جرائم پیشہ افراد ٹریفک پولیس کا سرکاری موٹر سائیکل لے اُڑے

سرکاری موٹر سائیکل چوری ہوئے ایک ہفتہ سے زائد وقت گزر چکامگر کوٹلی پولیس ملزمان کا سراغ لگانے میں تاحال ناکام

جمعرات جون 15:20

کوٹلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) کوٹلی پولیس کو چوروں کا کھلا چیلنج ، جرائم پیشہ افراد ٹریفک پولیس کا سرکاری موٹر سائیکل لے اُڑے ۔سرکاری موٹر سائیکل چوری ہوئے ایک ہفتہ سے زائد وقت گزر چکامگر کوٹلی پولیس ملزمان کا سراغ لگانے میں تاحال ناکام ہیں۔چوروں کی دیدہ دلیری کوٹلی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ گئی، ایس ایس پی کوٹلی عرفان سلیم کو محکمہ کی ساکھ بچانے کے لیے چوروں کی گرفتاری اور سرکاری موٹر سائیکل کی برآمدگی کا چیلنج درپیش ہے ،دیکھتے ہیں دبنگ آفیسر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاپاتے ہیں یا نہیں ۔

تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ کوٹلی میں آئے روز موٹر سائیکل چوری ہونے کے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں مگر عید سے قبل موٹر سائیکل چوروں نے کوٹلی پولیس کو چیلنج دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹلی کی گلی سے دن دیہاڑے ٹریفک پولیس کوٹلی کا موٹر سائیکل نمبر MDGS/714چوری کر لیا اور گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئے جس کا مقدمہ بھی تھانہ پولیس کوٹلی میں درج ہے۔

(جاری ہے)

میڈیا نے چوری والے روز ہی ٹریفک پولیس کے آفیسران سے رابطہ کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ شاید کسی نے ہمارے ساتھ شرارت کی ہو اور ہو سکتا ہے کہ موٹر سائیکل مل جائے مگر ہفتہ سے زائد وقت گزر جانے کے بعد بھی تاحال موٹر سائیکل برآمد ہوپایا نہ ہی ملزمان کا کوئی سراغ لگ سکا۔کوٹلی میں عام شہریوں کے موٹر سائیکل چوری ہوتے ہیں اور برآمد بھی نہیں ہوتے اور یہ واقعات کثرت سے رونما ہونے کے باعث اب معمولی لگتے ہیں مگر ٹریفک پولیس کا سرکاری موٹر سائیکل چوری ہونا اور ہفتہ سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود موٹر سائیکل برآمد ہونا اور نہ ہی چوروں کا کوئی پتا لگنا غیر معمولی واقعہ ہے جس پر تمام شہریوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

کوٹلی میں ایس ایس پی عرفان سلیم تعینات ہیں جو پیشہ وارانہ مہارت میں اپنا کوئی ثانی نہیںرکھتے اور اُن کی موجودگی میں ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آجانا کوٹلی پولیس کی کارکردگی پر بہت سے سولات اُٹھا رہا ہے،دیکھنا یہ ہے کہ ایس ایس پی کوٹلی اپنی قابل فورس کو حرکت میں لاکر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلا چیلنج دینے والے ان چوروں کو پکڑ پاتے ہیں یا نہیں ۔

متعلقہ عنوان :