ْ درجنوں معصوم جانوں سے کھیلنے والا قانون کی گرفت میں،بلیو وہیل گیم کا ماسٹر مائنڈ گرفتار

نوجوان لڑکے لڑکیاں بدکاری کا باعث ہیں لہذوہ زندہ رہنے کے مستحق نہیں، بلیو وہیل کے خالق کا موقف نیارونوف اپنے گھر سے ہی اس گیم کو آپریٹ کرتا تھا، پولیس حکام ْ

جمعرات جون 16:00

ماسکو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) درجنوں معصوم جانوں سے کھیلنے والا قانون کی گرفت میں آ گیا،جان لیوا بلیو وہیل گیم کا ماسٹر مائنڈ کو قانونی گرفت میں لے لیا گیا،،پولیس نے اس کا نام اور تصاویر جاری کردیں، نوجوان لڑکے لڑکیاں بدکاری کا باعث ہیں لہذوہ زندہ رہنے کے مستحق نہیں، نیارونوف اپنے گھر سے ہی اس گیم کو آپریٹ کرتا تھا۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے کہا ہے کہ جان لیوا بلیو وہیل گیم بنا کر نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا قانون کی گرفت میں آگیا۔

روس میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے موت کا کھیل بنانے والے اور کئی اموات کے ذمے دار ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرلیا۔22 سالہ نکیتا نیارونوف نامی نوجوان کا موقف ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں گناہ گار اور بدکار ہوتے ہیں لہذا زندہ رہنے کے مستحق نہیں۔

(جاری ہے)

برطانوی میڈیا کے مطابق نیارونوف کو گزشتہ برس ہی حراست میں لے لیا گیا تھا لیکن اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی تاہم اب پولیس نے اس کا نام اور تصاویر جاری کردی ہیں۔

نیارونوف کو روس کے شہر چیلیابنسک میں قید رکھا گیا ہے جہاں اس نے برین واش کرکے ایک لڑکی کو خود کشی پر اکسایا تھا۔۔پولیس کے مطابق نیارونوف ماسکو میں رہتا تھا اور اپنے گھر سے ہی اس گیم کو آپریٹ کرتا تھا۔ وہ مختلف سماجی ویب سائٹس کے ذریعے نوجوان لڑکے لڑکیوں سے رابطے کرتا تھا اور ان کی ذہن سازی کرتا تھا۔رپورٹس کے مطابق نیارونوف کا تعلق ایک اچھے خاندان سے ہے اور وہ ماسکو میں اچھی تنخواہ پر بطور فنانشل اینالسٹ خدمات انجام دیتا تھا۔

نیارونوف سے اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ اس نے 10 کم عمر لڑکیوں کو اپنے گھر کے کمپیوٹر پر بیٹھ کر خودکشی کے لیے اکسایا، ان میں سے دو لڑکیوں کے بارے میں جن کی عمریں 14 اور 17 برس ہیں، یہ اطلاعات ہیں کہ وہ زندہ بچنے میں کامیاب رہی ہیں۔۔پولیس کے مطابق نیارونوف نے اب تک اعتراف جرم نہیں کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ تو صرف ان لڑکیوں کی مدد کررہا تھا، وہ لڑکیاں ناامید تھیں۔خیال رہے کہ دنیا بھر میں درجنوں نوجوان مبینہ طور پر گیم کی لت میں پڑ کر اپنی جان لے چکے ہیں۔