مسلم لیگ ن نے عمران خان کو عام انتخابات سے روکنے کے لیے حکمت عملی بنا لی

معروف صحافی سمیع ابراہیم نے مسلم لیگ ن کے منصوبے کا بھانڈا پھوڑ دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 16:06

مسلم لیگ ن نے عمران خان کو عام انتخابات سے روکنے کے لیے حکمت عملی بنا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی سمیع ابراہیم نے کہا کہ عمران خان کی سیاست وہی ہے جس میں وہ ایک تبدیلی کی بات کر رہے تھے، ان کا موقف ابھی بھی وہی ہے لیکن ملک میں کچھ ایسی قوتیں بھی ہیں جو عمران خان کے بارے میں غلط افواہیں پھیلا رہی ہیں اور تنازعات کھڑے کر رہی ہیں۔

جب یہ عمران خان کو کسی فورم پر بھی روک نہیں سکے تو اب ان کی خواہش ہے کہ ایک آخری کوشش کے تحت عمران خان کا کسی طرح بھی اقتدار میں آنے سے روکا جائے۔ اسی لیے عمران خان کے خلاف یہ سب پراپیگنڈہ کیا جا رہاہے۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ پہلے ریحام خان کی کتاب کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ریحام خان نے عمران خان پر سنگین الزامات عائد کیے ۔

(جاری ہے)

اس کے بعد عمران خان کی سعودی عرب روانگی کے لیے جو جہازاستعمال کیا گیا اس کا مسئلہ ہوا ، اس کے بعد عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کے حوالے سے ایک تنازعہ کھڑا کیا گیا اور عمران خان کو اس معاملے کو بنیاد بنا کر ملک کے دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ لا کھڑا کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان نے جو کاغذات نامزدگی جمع کروائے ان پر بھی سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اعتراضات کر رہے ہیں اور ان اعتراضات میں وہ سیتا وائٹ کا قصہ لے کر آ رہے ہیں، حالانکہ ان کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ان کا یہ اعتراض مسترد ہو گا لیکن انہوں نے اس معاملے پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک جانے کا اعلان کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے عمران خان کے کردار کے بارے میں بات ہوتی رہے۔

اسی لیے ملک کی تمام پاورز اور اسٹیٹس کو نے عمران خان کے گرد ایک گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ جتنے بھی انتظامیہ کے لوگ، میڈیا نمائندگان اور دانشور ہیں ان میں سے اکثر یہی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح عمران خان کی کردار کشی کی جائے تاکہ عمران خان الیکشن تک نہ پہنچ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جو تینوں گورنر ہاﺅسز ہیں جن میں پنجاب،، سندھ اور خیبرپختونخواہ کے گورنر ہاؤسز شامل ہیں، وہ سب مسلم لیگ ن کے ہیڈ کوارٹرز بن چکے ہیں ، یہ ساری وہی بیوروکریسی ہے جس کو شہباز شریف لگا کر گئے تھے اور اب گورنر پنجاب وہاں بیٹھ کر مسلم لیگ ن کا پالیسی اجلاس کرتے ہیں اور وہاں مسلم لیگ ن کے دیگر اجلاس بھی کیے جاتے ہیں۔