بیگم کلثوم نواز کی صحت کے معاملے کو سیاسی بیانات میں شامل کرنے سے کسی کا سیاسی قد نہیں بڑھے گا‘ مریم اورنگزیب

آئندہ دو روز تک امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا جائیگا ،قیادت نواز شریف ہی کرینگے ،ڈویلپمنٹ کا ایجنڈاشہباز شریف کے پاس ہوگا جس طرح کے اقدامات کئے جارہے ہیں اس سے انتخابات کی شفافیت پر خود ہی سوالات اٹھ رہے ہیں اور عوام بھی اظہار کر رہے ہیں پنجاب اور سندھ میں افسران کی اوپر سے نیچے تک تبدیلی کردی گئی ،خیبر پختوانخواہ میں کچھ نہیں ہوا ،بس چلتا تو پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کو بھی دوسرے صوبوں میں منتقل کر دیا جاتا عمران خان نے جو چورن 2013ء میں بیچنا چاہاوہ 2018ء میں بھی نہیں بکے گا ، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جیسا سلوک ہوگا عوام اس سے بڑھ کر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں گے‘ مرکزی ترجمان کی پریس کانفرنس

جمعرات جون 16:10

اہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی صحت کے معاملے کو سیاسی بیانات میں شامل کرنے سے کسی کا سیاسی قد نہیں بڑھے گا ،،مسلم لیگ (ن) آئندہ دو روز تک اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیگی اور انتخابی مہم کی قیادت نواز شریف ہی کرینگے ،جس طرح کے اقدامات کئے جارہے ہیں اس سے انتخابات کی شفافیت پر خود ہی سوالات اٹھ رہے ہیں اور عوام بھی اظہار کر رہے ہیں ،،پنجاب اور سندھ میں افسران کی اوپر سے نیچے تک تبدیلی کردی گئی ہے لیکن خیبر پختوانخواہ میں ایسا کچھ نہیں ہوا ،اگر ان کا بس چلتا تو پنجاب میں لگنے والے ترقیاتی منصوبوں کو بھی دوسرے صوبوں میں منتقل کر دیا جاتا ، عمران خان نے جو چورن 2013ء میں بیچنا چاہاوہ 2018ء میں بھی نہیں بکے گا ، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جیسا سلوک ہوگا عوام اس سے بڑھ کر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں گے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنی180ایچ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ انسانی جذبوں کو پامال نہیں کیا جانا چاہیے اسی میں سب کی بہتری ہے ۔ ہمارا میڈیا جودکھاتا ہے اسے بین الاقوامی میڈیا پر بھی پیش کیا جاتا ہے اور اس سے قوم کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اداروں کا معیار لوگ بناتے ہیں اور ہمیں سیاست کے معیار کو دوبارہ 90ء کی دہائی میں نہیں لے جانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عورت ماں ، بیٹی اور بیوی ہوتی ہے ۔ سب کو معلوم ہے کہ بیگم کلثوم نواز اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں اور اس حالت میں سب ان کیلئے دعا گو ہیں ۔بیگم کلثوم نواز کا آمریت کے دور میں کردار سب کے سامنے ہے اور قوم ان کی احسان مند ہے ۔ اعتزاز احسن جیسے قدر آور شخصیت نے یہ بات کہی ہے کہ جس کلینک میں بیگم کلثوم نواز زیر علاج ہیں وہاں اس مرض کا علاج ہی نہیں ہوتا ،اس سے ہمارا دل دکھا ہے اور یہ افسوسناک ہے ،سب کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

نواز شریف روز ہارلے کلینک سے باہر آکر میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں ،کسی کو بھی بیگم کلثوم نواز کی صحت کے معاملے کو سیاسی بیانات میں شامل کرنا زیب نہیں دیتا اور میرے خیال میں یہ الفاظ اعتزاز احسن کے سیاسی قدمیں اضافے میں مدد نہیں دیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی نیب میں 100سے زائد پیشیاں بھگت چکے ہیں ، اس سے قبل ان کا میڈیا ٹرائل ہوا ،جے آئی ٹی کے ہیرو نے تحقیقات کیں ، جب ہم کہہ رہے تھے کہ ریفرنسز کو الگ الگ کر دیں تو یہ کہا گیا کہ انہیں الگ نہیں کیا جا سکتا لیکن پھر معلوم نہیں اچانک کہاں سے یہ بات آ گئی ہے کہ ریفرنسز کو الگ الگ کر دیا جائے اور عدالت نے بھی فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ درخواست گزار اقامہ کی بنیاد پر عدالت میں نہیں گیا تھا ، نواز شریف پر ایک روپے کی کرپشن ثاببت نہیں ہوئی ۔ ہمارے وکیل نے کہا ہے کہ ہوا میں باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا نواز شریف کا ایون فیلڈ سے تعلق کو ثابت کیا جائے ۔ عجلت میں صبح شام چھٹی کے روز کیس سننے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ صبح شام صرف شریف خاندان اور (ن) لیگ کے لوگوں کی طلبی کی جارہی ہے کیونکہ ان لوگوں نے عوام اور ملک کیلئے کام اور خدمت کی ہے اور عوام کیلئے منصوبے مکمل کئے ہیں اور یہ تمام منصوبے خود گواہی دیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بنی گالہ سے اہم اعلان ہوا اور مجھے تو پی ٹی آئی کے اس ترجمان پر ترس آتا ہے جو اس سے قبل پانچ جماعتوں کا ترجمان رہ چکا ہے ۔ سلاخوں کے پیچھے سے چھپ کر اور کمرے سے اعلان کیا گیا کہ 24جون کو انتخابی مہم کا آغاز کریں گے ۔ خیالی وزیر اعظم عمران خان جس نے 2013ء میں بھی شیروانی سلوا لی تھی پی ٹی آئی کے کارکنوں سے چھپ کر بنی گالا میں بیٹھا ہے اور اپنے لئے رینجرز اور پولیس تعینات کرا رکھی ہے ۔

یہ ہے وہ شخص جو خود کو خیالوں میں وزیر اعظم سمجھتا ہے لیکن کارکنوں کے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 2013ء میں چورن بیچا کہ سیاسی جماعتوں نے کچھ نہیں کیا اور آزمائی ہوئے لوگوں کو دوبارہ نہ آزمایا جائے ، 2018میں آپ بھی آزمائے ہوئے ہیں او رآپ خیبر پختوانخواہ میں کچھ نہ کر سکنے کی وجہ سے نا اہل اور نا لائق ثابت ہو چکے ہیں آپ نے جو دعوے کئے ہیں اس میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا ۔

اب آپ 24جون کو چورن نہیں بکے گا کیونکہ آپ کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے ۔ آپ شریف شریف کی رٹ لگاتے ہیں لیکن آپ کا شرافت کے لفظ سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ عوام خدمت ، کارکردگی کی بناء پر ووٹ دیں گے ۔۔مسلم لیگ (ن) جلد اپنے منشور کا اعلان کرے گی اور یہ منفرد ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان صاحب آپ نے اپنے کارکنوں کو جو سکھایا ہے وہ آج آپ کے سامنے آرہا ہے آپ کے کارکن لاٹھیاں اٹھا کر اپنے لیڈر کو ڈھونڈے رہے ہیں ۔

انہوں نے زعیم قادری کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ (ن) لیگ کے متحرک کارکن اور شہباز شریف کے دیرینہ ساتھی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈال دیاجائے ، کیا ای سی ایل میں چار پانچ ہی خانے ہیں جس میں نواز شریف ،مریم ، حسن اور حسین کے ہی نام آ سکتے ہیں ۔ نواز شریف او رمریم نواز نے 100کے قریب پیشیاں بھگتی ہیں ،جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے بتایا جائے کیوں ان کانام ای سی ایل میں ڈالا جائے ۔

یہاں وہ لوگ بھی ہیں جو ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود بھاگ جاتے ہیں ، لوگوں کے خلاف رینفرنسز ہیں لیکن ان کے کاغذات گم ہو جاتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ نگران وزیر داخلہ کبھی انکار اورکبھی انکار کرتے ہیںوہ بتائیں زلفی بخاری کا نام کیوں ای سی ایل سے نکالا گیا وہ صرف اس کی وضاحت دیدیں۔انہوںنے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں اوپر سے نیچے تک اکھاڑ پچھاڑ کر دی گئی ہے جبکہ خیبر پختوانخواہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ۔

اگر آئینی رکاوٹ نہ ہوتی تو پرویز خٹک کوہی وزیر اعلیٰ رہنے دیا جاتا ۔ یہاں بس نہیں چلا ورنہ پنجاب میں لگنے والے ترقیاتی منصوبوں کو بھی دوسرے صوبوں میں منتقل کر دیا جاتا ۔ انہوںنے کہا کہ نیب انتخابات سے دو ماہ قبل متحرک ہوا ہے ،سابق وزراء اور جن کا کسی بھی طرح سے شریف خاندان سے تعلق ہے انہیں بلایا جاتا ہے اور یہ پری پول رگنگ ہے ،جو ہو رہا ہے اس سے صاف اور شفاف انتخابات پر خود سوال اٹھ رہے ہیں اور عوام بھی اظہار کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جیسا سلوک ہوگا عوام اس سے بڑھ کر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں گے ۔ انہوںنے نگران وزیر داخلہ کو ہٹانے کے حوالے سے سوال کے جوابب میں کہا کہ ہمیں کسی سے ہٹانے اور بٹھانے سے سروکار نہیں ہم صاف اور شفا ف انتخابی مہم چلائیں گے اور ہم نے جوکارکردگی دکھائی ہے کام کئے ہیں وہ عوام کے سامنے رکھیں گے ، کسی کو ہٹانے اور کسی کو بٹھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

انہوںنے کہا کہ ہماری جماعت میں لوٹوں کا عمل دخل نہیں تھا ،دو رو زتک امیدواروں کے ناموں کا اعلان کریں گے اور مہم شروع ہو چکی ہیں جس کی قیادت نواز شریف انتخابی مہم کی قیادت کریں گے جبکہ ڈویلپمنٹ کا ایجنڈ شہباز شریف کے پاس ہوگا ۔ہم متحد ہو کر عوام کے پاس جائیں گے اور اللہ کے فضل اور عوام کے ووٹوں کی طاقت سے سرخرو ہو کر دوبارہ حکومت بنائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ جو خاتون وینٹی لیٹر پر ہے آپ اس خاتون کے شوہر اور بیٹی سے اس کی ترجیح پوچھ رہے ہیں ہم سب کیلئے سب سے پہلی ترجیح بیگم کلثو م نواز کی صحت ہے ۔