عالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے پاکستان کی درجہ بندی مستحکم سے کم کر منفی کردی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جون 16:14

عالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے پاکستان کی ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 جون۔2018ء) عالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے پاکستان کی درجہ بندی مستحکم سے کم کر منفی کردی ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ کے نقطہ نظر کو منفی اعداد میں پہنچانے کا فیصلہ پاکستان میں ادائیگیوں کے توازن پر پڑنے والے دباﺅ کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی خطروں میں اضافے کے باعث کیا گیا۔

موڈیز نے امید ظاہر کی کہ رواں ماہ 30 تاریخ کو اختتام پذیر ہونے والی پاکستانی حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے زر مبادلہ کے بہاﺅ میں 2 سے 3 ارب ڈالر کا معمولی اثر مرتب ہوگا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سرمایہ کاری میں واضح کمی کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران اضافے کا کوئی امکان نہیں۔

(جاری ہے)

کم ہوتے ذخائر سے اعتدال پسند اخراجات پر جاری بیرونی سرمایہ کاری کو خطرہ ہے اور اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر حکومتی سیال ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔تاہم موڈیز نے پاکستان کی بی 3 مقامی اور طویل مدتی غیر ملکی کرنسی جاری کنندہ اور غیر محفوظ قرض کی ریٹنگ بھی برقرار رکھی ہے۔موڈیز کے مطابق پاکستان کی بی 3 ریٹنگ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ پاکستان میں توانائی منصوبوں اور تعمیری ڈھانچے میں بہتری کے بعد تیز ہوتی ترقی کی صلاحیت کے بعد کیا گیا۔

یہ کریڈٹ پاکستان کی خراب ہوتی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی صورتحال اور حکومت کا کم آمدنی میں قرض برداشت نہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوا۔یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں موڈیز نے پاک چین اقتصادی راہداری ((سی پیک)) میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان میں مضبوط معاشی سرگرمیوں کے آغاز کی ا±مید ظاہر کی اور پاکستان کی کریڈٹ پروفائل کو بی 3 اسٹیبل میں شامل کرنے کی تصدیق بھی کردی تھی۔