سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس،

زلفی بخاری کے معاملے پر سینیٹر رانا مقبول کمیٹی کے کوآر ڈینیٹر مقرر مارگلہ ہلز پر آگ لگنے کے معاملے میں ٹمبر مافیا ہی ملوث ہے، چیف کمشنر ہائوسنگ سوسائٹیوں اور قبضہ گرپوں کے خلاف گرینڈ آپریشن ہونا چاہے، سینیٹ اے رحمان ملک سکیورٹی اور پروٹوکول بلیو بک میں ترمیم کی جائے، سینیٹر جاوید عباسی

جمعرات جون 16:43

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر اے رحمان ملک کی زیر صدارت جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں نگران وزیر داخلہ محمد اعظم خان بھی شریک ہوئے۔کمیٹی چیئرمین اور ارکان نے نگران وزیر داخلہ کا خیر مقدم کیا۔کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لئے عمران خان نے کسی کو کوئی فون نہیں کیا۔

کمیٹی کے چیئرمین اے رحمان ملک نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ نے گزشتہ اجلاس میں اس بات کی تردید کی کہ عمران خان نے ان کو فون کیا۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرجاوید عباسی نے کہا کہ ہم نے اعتراض کیا تھا کہ جس انداز میں زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالا گیا اس طرح کی ماضی میں کوئی مثال نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ زلفی بخاری کی درخواست کون لے کر آیا۔

کس کے کہنے پر نام نکالا گیا اور کس نے منظوری دی۔کمیٹی نے زلفی بخاری کے معاملے پر سینیٹر رانا مقبول کو کمیٹی کا کو آر ڈینیٹر مقرر کر دیا ۔نگران وزیر داخلہ اعظم خان نے زلفی بخاری کے معاملے پرکمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس سیکرٹری داخلہ فائل لے کر آئے اور کہا کہ زلفی بخاری نامی شخص عمران کے ساتھ عمرے کے لئے جا رہے ہیں، زلفی بخاری بلیک لسٹ پر ہیں اور ان کو روک لیا گیا ہے۔

زلفی بخاری نے بلیک لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست دی ہے اور بیان حلفی دیا ہے کہ وہ واپس آئیں گے۔زلفی بخاری نے بیرون ملک جانے کے لئے ون ٹائم پرمیشن مانگی۔ میں نے زلفی کی فائل دیکھی اور چھ روز کے لئے جانے کی اجازت دی اور لکھا کہ اس کو واپس آنا ہو گا۔ مجھے عمران خان سمیت کسی نے کوئی فون نہیں کیا۔زلفی بخاری کے خلاف نیب میں آف شور کمپنیوں کا کیس ہے۔

نیب نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کی تھی۔ کابینہ کمیٹی نہ ہونے کے باعث زلفی کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا گیا تھا تاکہ وہ ملک سے نکل نہ جائیں۔سینیٹر اے رحمان ملک نے کہا کہ بری امام اور ارد گرد کے علاقوں میں افغان قابض ہیں،500 کنال زمین والی ہاوسنگ سوسائٹی 2000 کنال کے پلاٹ بیچ دیتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہائوسنگ سوسائٹیوں اور قبضہ گرپوں کے خلاف گرینڈ آپریشن ہونا چاہے۔

سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔ وی وی آئی پیز کے لئے راستے بند کرنے کے حوالہ سے پالیسی ہونی چاہئے ،سکیورٹی اور پروٹوکول بلیو بک میں ترمیم کی جائے۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر اے رحمن ملک نے کہا کہ دودھ میں شیمپو ڈال کر بیچا جا رہا ہے اس پر انتظامیہ کے پاس کیا مکینزم ہے،،پاکستان میں لوگوں کو گدھے اور کتے کاٹ کر بھی کھلائے جاتے رہے ہیں۔

سپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی قائم کرنے کے لئے پی ایس ڈی پی میں بجٹ رکھا گیا ہے۔سینیٹر اے رحمن ملک نے کہا کہ آئی سی ٹی کا بجٹ بڑھایا جائے۔کمیٹی نے مارگلہ ہلز پر آگ لگنے کا نوٹس لے لیا۔کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اس میں ٹمبر مافیا ملوث ہے جس پر چیف کمشنر نے اعتراف کیا کہ ایسا ہی ہے اس معاملے میں ٹمبر مافیا ہی ملوث ہے۔