کویت:غیر مُلکی کنواروں کی شامت آ گئی

رہائشی علاقوں میں مقیم کنوارے کرایہ داروں کو نکال باہر کیا جائے گا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جون 16:25

کویت:غیر مُلکی کنواروں کی شامت آ گئی
کویت سٹی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21جُون 2018ء) کویت بھر کے رہائشی علاقوں میں مقیم غیر مُلکی کنواروں کے لیے مصیبت کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کویتی وزیر برائے پبلک ورکس حوسام الرومی نے تمام میونسپل مینجرز کو ہدایات جاری کی ہے کہ وہ مختلف رہائشی علاقوں کا دورہ کر کے ان میں مقیم ایسے غیر مُلکی نوجوانوں کا پتا چلائیں جو کنوارے ہیں مگر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہوئے رہائشی علاقوں میں مقیم ہیں۔

ایسے غیر ملکی کنواروں کو فوراً وارننگ کی جائے کہ وہ فیملیوں کے لیے بنے رہائشی یونٹس خالی کر دیں۔ میونسپل مینجرز رہائشی علاقوں کے لوگوں سے مِل کر اُن کے علاقے میں مقیم پردیسی کنواروں کے بارے میں شکایات بھی وصول کریں گے۔ عنقریب اس حوالے سے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا جس میں اُن سرکاری گھروں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جہاں پردیسیوں کو کرائے پررہائش دی گئی ہے جبکہ سرکاری گھروں کو کرائے پر دینا قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ مُلکی اور غیر مُلکی افراد کا مربوط اور جامع رہائشی ریکارڈ رکھنے کی خاطر ایک کرایہ داری فارم کی تیاری بھی ہو رہی ہے جو رواں سال کے آخر میں دستیاب ہو گا ۔ اس فارم کی کی تیاری منسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ کویت ریئل اسٹیٹ بروکرز کی جانب سے کرایہ داری سمجھوتے کے لیے ای فارم کی تیاری کو بہت سراہا جا رہا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ نئے فارم کے اجراء سے کرایہ دار اور مالک مکان دونوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔بروکرز کا کہنا ہے کہ اس نئے کرایہ داری فارم کے اجراء سے دھوکا دہی کے واقعات کا خاتمہ ہو گا اور کرایہ نامہ پر کرائے کی اصل رقم کا اندراج ممکن ہو گا۔ اس فارم کی بدولت اُن بہت سی مشکلات کا خاتمہ بھی ہو گا جن کا اس وقت مکان مالکان اور کرایہ دار سامنا کر رہے ہیں۔

وزارت کے مطابق نئے لیز کنٹریکٹ کا اجراء ریئل اسٹیٹ بروکرز کے دفاتر سے ہو گا جبکہ اس وقت یہ کنٹریکٹ فارم بُک شاپس پر فروخت ہوتے ہیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خطے کے کئی ممالک میں کافی عرصے سے کرایہ داری کے سمجھوتے کے لیے ای فارم کا استعمال ہو رہا ہے جبکہ کویت میں اس مقصد کے لیے سات اقسام کے کنٹریکٹ فارمز استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :