بھارت ،ْپاسپورٹ بنوانے کیلئے جانے والے جوڑے سے مذہب تبدیلی کا مطالبہ

محمد انس صدیقی نے 2007 میں لکھنؤ میں تنوی سیٹھ سے شادی کی تھی، 6 سال کی بیٹی بھی ہے ،ْ پاسپورٹ جاری پاسپورٹ بنوانے کیلئے جانے والے جوڑے سے بدتمیزی کرنے والے افسر کو شوکاز نوٹس جاری ،ْ تبادلہ بھی کر دیا گیا

جمعرات جون 17:00

لکھنؤ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) بھارت میں پاسپورٹ بنوانے کے لیے جانے والے ایک جوڑے سے بدتمیزی کرنے والے افسر کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کا تبادلہ کردیا گیا،ْ مذکورہ افسر نے خاتون سے نام تبدیل کرنے اور شوہر سے مذہب تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق محمد انس صدیقی نے 2007 میں لکھنؤ میں تنوی سیٹھ سے شادی کی تھی، ان کی ایک 6 سال کی بیٹی بھی ہے۔

انس صدیقی نے 19 جون کو اپنے اور اپنی اہلیہ کے پاسپورٹ کے لیے بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں درخواست دی۔20 جون کو لکھنؤ کے پاسپورٹ آفس میں وکاس مشرا نامی ایک آفیسر نے جب شوہر کا نام محمد انس صدیقی لکھا دیکھا تو وہ تنوی سیٹھ پر چلانے لگا کہ اسے ایک مسلمان سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی اور اس کے ساتھ ہی مذکورہ افسر نے ان کی درخواست خارج کردی۔

(جاری ہے)

بعدازاں پاسپورٹ آفیسر وکاس مشرا نے انس صدیقی کو بلایا اور اس کی بے عزتی کرتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہب اپنالو، ورنہ یہ شادی نہیں مانی جائے گی۔جوڑے نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج سے مدد کی اپیل کی جس کے بعد حکام نے نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ پاسپورٹ آفیسر کا تبادلہ کردیا جبکہ جوڑے کو پاسپورٹ بھی جاری کردیئے گئے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں لکھنؤ کے ریجنل پاسپورٹ آفیسر پیوش مشرا کے حوالے سے بتایا گیا کہ جوڑے کو پاسپورٹس جاری کیے جاچکے ہیں اور واقعہ میں ملوث پاسپورٹ آفیسر کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا جبکہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، ہمیں اس واقعے پر افسوس ہے اور امید ہے کہ اس قسم کا واقعہ دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔دوسری جانب خاتون تنوی سیٹھ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہماری شادی کو 11 برس ہوچکے ہیں تاہم کبھی اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ یہ میری مرضی تھی کہ میں شادی کے بعد اپنے شوہر کا نام اپنے ساتھ لگاؤں ،ْیہ ہمارا خاندانی معاملہ ہے۔

متعلقہ عنوان :