لندن فلیٹس ریفرنس، خواجہ حارث نے الزامات کے تحقیقاتی نتائج پر جے آئی ٹی اختیار کو بھی چیلنج کر دیا

نتیجہ نکالنے کا اختیار صرف عدالت کو ہوتا ہے، پانامہ جے آئی ٹی کی حیثیت ایک تفتیشی ایجنسی جیسی تھی ، ایسی ہر ایجنسی کی تفتیش کیلئے قانون وضع ہوتا ہے جس میں طے کیا جاتا ہے کہ کون سی شہادت قابل قبول ہوگی ،خواجہ حارث فریق صفائی نے جے آئی ٹی رپورٹ کا متعلقہ حصے کی بجائے پوری رپورٹ ہی چیلنج کردی ، جج محمد بشیر

جمعرات جون 17:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر سابق وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف لندن فلیٹس کے مقدمہ میں انکے وکیل خواجہ حارث نے تعزیرات پاکستان کے تحت بار ثبوت ، ملزم کی بجائے استغاثہ پر ہونے کے قانونی دلائل د دیتے ہوئے الزامات کی تحقیقاتی نتائج پر جے آئی ٹی کے اختیار کو بھی چیلنج کیا اور کہاکہ نتیجہ نکالنے کا اختیار صرف عدالت کو ہوتا ہے جبکہ جج محمد بشیر نے کہاکہ فریق صفائی نے جے آئی ٹی رپورٹ کا متعلقہ حصہ چیلنج کرنے کی بجائے پوری رپورٹ ہی چیلنج کردی ہے ۔

(جاری ہے)

جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور انکے اہلخانہ کیخلاف لندن فلیٹس والے مقدمہ پر سماعت کی ، نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے تیسری پیشی پر بھی حتمی دلائل جاری رکھتے ہوئے کہاکہ پانامہ جے آئی ٹی کی حیثیت ایک تفتیشی ایجنسی جیسی تھی ، ایسی ہر ایجنسی کی تفتیش کیلئے قانون وضع ہوتا ہے جس میں طے کیا جاتا ہے کہ کون سی شہادت قابل قبول ہوگی ، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو تفتیش کیلئے نیب اور ایف آئی اے جیسا اختیار دیا ،، انہوں نے کہاکہ تعزیرات پاکستان کے تحت تفتیش اور عدالتی کارروائی دو الگ مراحل ہیں ، عدالت نے تفتیشی مواد کی روشنی میں نتیجہ اخذ کرنا ہوتا ہے لیکن تفتیشی ایجنسی ہی اگر نتائج نکال دے تو پھر استغاثہ کا کردار کیا رہ جاتا ہے ، جے آئی ٹی سربراہ نے جو نتائج اخذ کئے وہ قابل قبول شہادت نہیں ، دفعہ 161 کے تحت رکارڈ بیان کو استغاثہ اپنے مقاصد کیلئے نہیں بلکہ ملزم اپنے حق کیلئے استعمال کرسکتا ہے ، کسی بیان کی صرف آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ ثبوت نہیں مانا جاسکتا جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ صرف ایک تفتیشی رپورٹ ہے ، خواجہ حارث نے کہاکہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے وہ چیزیں بھی پیش کیں جن کا مقدمہ سے تعلق نہیں تھا ، کیپیٹل ایف زیڈ ای کمپنی اور شریف خاندان کی فنانشل اسٹیمنٹ کا بھی اس مقدمہ سے تعلق نہیں ، خواجہ حارث نے کہاکہ تفتیشی رپورٹ میں رائے ہوتی ہے اسی لیے اسے قابل قبول شہادت نہیں مانا جاسکتا ، اس موقع پر جج محمد بشیر نے خواجہ حارث سے کہاکہ آپ جیآئی ٹی کا کوئی متعلقہ حصہ چیلنج کرتیآپ نے تو پوری رپورٹ ہی چیلنج کردی ، کیس کے اس مرحلے پر اب یہ معاملہ طے کرنا ہوگا ، خواجہ حارث نے کہاکہ وہ جے آئی ٹی رپورٹ پر پہلے بھی اعتراض اٹھاتے رہے تھے ، واجد ضیا نے جن گواہوں کا ذکر کیا انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جبکہ قانون شہادت کے مطابق ان گواہوں کا عدالت میں پیش ہونا ضروری تھا ،، جے آئی ٹی میں تو پورا تھیسیس لکھا گیا ہے کہ فلاں نے فلاں جھوٹ بولا ، ایسا تعین توعدالت کرتی ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے ،، خواجہ حارث نے کہاکہ انہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کے رائے والے حصے پر حتمی دلائل دیدیئے ہیں ، اب دفعہ 161 کے بیان والے رپورٹ کے دوسرے حصے اور مواد والے تیسرے حصے پر عدالت کی معاونت کرنی ہے،،بعد ازاں سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔