صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سے سینئر وزیر آزاد حکومت چوہدری طارق فاروق کی ملاقات

جمعرات جون 17:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان سے سینئر وزیر آزاد حکومت چوہدری طارق فاروق نے ایوان صدر کشمیر ہائوس اسلام آبا د میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں قائدین نے آزاد کشمیر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبہ جات بلخصوص سڑکات کی تعمیر کو اعلی معیار کے ساتھ بروقت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔

اس موقع پر صدر گرامی نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی اقدام سے مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی مزید خلاف ورزیوں کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آٹھویں بار گورنر راج کے نفاذ سے یہ بات عیاں و چکی ہے کہ ہندوستان کی کشمیر پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔

(جاری ہے)

صدر نے حال ہی میں پلوامہ میں ہندوستانی افواج کے آپریشن میں تین کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت پر کڑی تنقید اور مزاحمت کی۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس طرح کے جبر و استبدال سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں پائیدار امن کا حصول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں ہی پنہا ہے۔

صدر گرامی اور سنئیر وزیر نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز پارلمینٹری کشمیرگروپ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جاری رپورٹس کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس رپورٹ کے تحت یہ بات عیاں و چکی ہے کہ یندوستانی افواج نے ہندوستانی آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کی چھتری کے نیچے تمام بین الاقوامی اقدار اور قوانین کی دھجیاں بکھیری ہیں اور بلاخوف اور تردید انسانی قتل عام کیا ہے ۔

اس موقع پر دونوں قائدین نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی تحقیق کاروں کو غیر مشروط طور پر مقبوضہ وادی میں رسائی دینے کے لئے ہندوستان پر دبائو ڈالے۔