ٹی ٹی پی رہنماء ملا فضل اللہ کی ہلاکت نمایاں کامیابی ہے ، پاکستان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھے گا، پاکستان پائیدار امن کیلئے افغانستان کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، خطہ میں قیام امن کیلئے بھارت کو چانکیہ ذہنیت سے نکلنا اور مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا، گلگت بلتستان جموں و کشمیر کا حصہ ہے جو متنازعہ علاقہ ہے

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

جمعرات جون 17:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) دفتر خارجہ کے ترجمان نے دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان کے رہنماء ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھے گا، پاکستان پائیدار امن کیلئے افغانستان کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، خطہ میں قیام امن کیلئے بھارت کو چانکیہ ذہنیت سے نکلنا اور مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا، گلگت بلتستان جموں و کشمیر کا حصہ ہے جو متنازعہ علاقہ ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دروان صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ٹی ٹی پی رہنماء ملا فضل اللہ کی ہلاکت نمایاں کامیابی ہے جبکہ پاکستان ٹی ٹی پی کے دیگر دہشت گردوں کا بھی تعاقب جاری رکھے گا۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ہاتھ پاکستان میں بیگناہ افراد کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کیلئے افغان حکومت کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور عیدالفطر کے موقع پر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جنگ بندی اس سلسلہ میں اہم پیشرفت ہے۔ پاکستان قیام امن کیلئے کوششوں میں افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ دہشت گردی اور شدت پسندی مشترکہ مسئلہ ہے اور دونوں ممالک قریبی تعاون کے ذریعے ہی اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہا ہے جس سے خطہ کے امن و استحکام کو یکساں خطرات لاحق ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ترجمان نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان کے قونصل جنرل نے 23 مئی کو عافیہ صدیقی سے ملاقات کی تھی جہاں انہوں نے امریکی حکام کی بدسلوکی کی شکایت کی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ متعلقہ امریکی حکام سے اٹھایا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی ماں کے نام ایک خط بھی قونصل جنرل کے حوالہ کیا۔ کشمیر سے متعلق ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ’’گورنر راج‘‘ ایک سازش ہے جو بھارت کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کیلئے وقتاً فوقتاً اٹھاتا رہتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے بھارتی مظالم میں اضافہ ہو گا اور بھارتی فورسز کو بیگناہ کشمیریوں کے خلاف فری ہینڈ ملے گا۔

ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ معروف کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی آزادانہ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کرے اور قتل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقوبضہ کشمیر جانے کی اجازت اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خطہ کو اسلحہ کی دوڑ میں جھونک رہا ہے تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور عوام ملکی دفاع کیلئے مکمل تیار ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ خطہ میں امن و استحکام کیلئے بھارت کو چانکیہ ذہنیت سے نکلنا اور مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔ گلگت بلتستان سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان جموں و کشمیر کا حصہ ہے جو متنازعہ علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ تنازعہ آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں یو این ایجنڈے کے پابند ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر دبئی میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل نے 350 پاکستانی قیدیوں کو فلائٹ ٹکٹیں، مالی اور قانونی امداد فراہم کی۔ یو اے ای حکومت نے عیدالفطر کے موقع پر عام معافی کے تحت تقریباً 200 قیدیوں سمیت 442 پاکستانیوں کو رہا کیا۔