مقبوضہ کشمیرمیں معروف صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی غیر جانبدارنہ تحقیقات،قاتلوں کو جلد از جلد قانو ن کے کٹہرے میں لانے کیلئے انسانی حقوق کمیشن میں عرضداشت دائر

جمعرات جون 17:30

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں معروف صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی غیر جانبدارنہ تحقیقات اورقاتلوں کو جلد از جلد قانو ن کے کٹہرے میں لانے کیلئے انسانی حقوق کمیشن میں ایک عرضداشت دائر کی گئی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق انسانی حقوق کے کارکن اورسینٹر فار پیس اینڈ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس کے چیئرمین ایم ایم شجاع نے انسانی حقوق کمیشن میںعرضداشت دائر کی ہے جس میں شجاعت بخاری کے قتل کی غیرجانبدارانہ تحقیقات پر زوردیا گیا ہے۔

عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ شجاعت بخاری کے قتل کچھ اہم عوامل اورمواقع ہیں،جن کی تحقیقات لازمی ہے،تاکہ مجرموں کوقانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ عرضداشت میں کہاگیا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ شجاعت بخاری نے قتل سے ایک روز قبل کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سے ملاقات میں انہیں بہتر سیکورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی تو اس سلسلے میں فوری کوئی اقدام کیوںنہیں کیاگیا۔

(جاری ہے)

عرضداشت میں پولیس کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاگیا ہے کہ سی سی ٹی وی سے حاصل شدہ جو تصاویر منظر عام پر آئی ہے،وہ مشتبہ ہے،کیونکہ ابھی تک پولیس اس مقام کی نشاندہی نہیں کرسکی ہے جہاں یہ کیمرہ نصب ہے۔ ایم ایم شجاع نے کمیشن سے جو موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے چھٹیوںپر ہے کو اس اہم نوعیت کے مقدمے کی سماعت کیلئے خصوصی بینچ تشکیل دینے کی بھی درخواست کی ہے۔ واضح رہے کہ روزنامہ رائزنگ کشمیر کے مدیر اعلیٰ اور سنیئر صحافی و تجزیہ نگار سید شجاعت بخاری کونامعلوم مسلح افراد نی14جون کو پریس کالونی سرینگرمیں انکی2محافظوں سمیت گولیاں مار کرشہید کردیا تھا۔