بھارت، 22برس بعد بیٹے کی موت کا معاوضہ کا فیصلہ

ملزم اسپتال ایک ماہ کے اندر معاوضہ کی رقم اور 10ہزار روپے مقدمے کا خرچ متاثرہ خاندان کو ادا کرے گا

جمعرات جون 17:43

کولکتہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) بھارت میں بیٹے کی موت کے 22سال بعد معاوضے کی رقم ادا کرنے کا فیصلہ سنا دیا گیا، ملزم اسپتال ایک ماہ کے اندر معاوضہ کی رقم اور 10ہزار روپے مقدمے کا خرچ متاثرہ خاندان کو ادا کرے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اسپتال کی لاپروائی اور طبی غلطی کے باعث مریض کی موت کی22سال بعد مغربی بنگال کے اسپتال کو 19.2لاکھ روپے بطور معاوضہ متوفی کے اہل خانہ کو دینے ہونگے۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ۔ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے متوفی کے اہل خانہ کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ بچے کا علاج مفت سہولت اسکیم کے ذریعے ہوا تھا۔وہ اسپتال کا صارف نہیں لہذا اس کا اسپتال سے تعلق نہیں ۔ بعد ازاں خاندان والوں نے اعلی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں عدالت نے کہا کہ مفت علاج کی سہولت حاصل کرنے والا بھی صارف ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

واضح ہو کہ 12جون 1996 کو 15سالہ دینا ناتھ چودھری کو راستے میں آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا جسے چندنگر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں کی لاپروائی سے اس کی موت ہوگئی تھی۔ گزشتہ روز عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد کنزیومر فورم نے ملزم اسپتال کو ایک ماہ کے اندر معاوضہ کی رقم اور 10ہزار روپے مقدمے کا خرچ متاثرہ خاندان کو دینے کا حکم جاری کیا۔

متعلقہ عنوان :