اسلام آبادہائیکورٹ نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی، زلفی بخاری کونیب میں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت

جمعرات جون 17:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اسلام آبادہائیکورٹ نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے زلفی بخاری کو قومی احتساب بیورو (نیب) میں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔بدھ کو عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے زلفی بخاری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی ۔

اس موقع پر زلفی بخاری، ان کے وکیل، نیب پراسیکیوٹر اور وزارت داخلہ کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔۔سماعت کے دوران زلفی بخاری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل برطانوی پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے۔جس پر فاضل جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ 'اکثر لوگ 4 ، 4 پاسپورٹ بناتے ہیں اور قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں ،زلفی بخاری بیرون ملک کیسے گئی ۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ زلفی بخاری نوٹس کے باوجود حاضر نہیں ہوئے اور 20 مارچ کو طلبی نوٹس پر جواب دیا گیا کہ وہ برطانوی شہری ہیں اور ان پر یہاں کے قانون لاگو نہیں ہوتے۔نیب پراسیکیوٹر کے مطابق زلفی بخاری دہری شہریت رکھتے ہیں، جبکہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی سفارش سے متعلق بھی وزارت داخلہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس موقع پر وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ 'نیب کا خط 10 مئی کو ملا تھا، جس میں زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا گیا تھا، ہم نے بلیک لسٹ میں نام ڈال دیا۔جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ 'کیا بلیک لسٹ میں کسی کا نام رکھ کر اس کو باہر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہی'ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا کہ 'آپ نے کس کے کہنے پر نام بلیک لسٹ سے نکالا اور کس نے آپ سے رابطہ کیا'۔۔سماعت کے دوران زلفی بخاری نے موقف اختیار کیا کہ اگر نیب نے بلایا تو وکیل کے مشورے سے جاؤں گا ۔