زلفی کا نام ای سی ایل سے نکالنے میں بہت پٴْھرتی دکھائی گئی ،ْاسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب اور وزار ت داخلہ سے جواب طلب کرلیا

عدالت کا نیب کے ایڈیشنل ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کی اپیل پر زلفی بخاری کو نیک نیتی سے نیب کی تحقیقات میں تعاون کرنے کا حکم بلیک لسٹ میں ان لوگوں کا نام شامل کیا جاتا ہے جو ریاست کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہوں ،ْ جسٹس فاروق کے ریمارکس

جمعرات جون 18:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے دوست زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارتِ داخلہ اور قومی احتساب بیورو (نیب) حکام سے جواب طلب کرلیا۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے سفری پابندیوں کے معاملے کے خلاف عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار حسین بخاری المعروف زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عدالتِ عالیہ نے نیب کے ایڈیشنل ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کی اپیل پر زلفی بخاری کو نیک نیتی سے نیب کی تحقیقات میں تعاون کرنے کا حکم دیا۔نیب کے پروسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بیورو کی جانب سے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست بھیجی گئی تھی تاہم متعلقہ کمیٹی غیرفعال ہے جس کے باعث ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کردیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ نیب کی جانب سے متعدد نوٹسز دیے جانے کے باوجود زلفی بخاری پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ان کا نام ای سی ایل میں درج کیا گیا تھا۔اس حوالے سے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ بلیک لسٹ میں ان لوگوں کا نام شامل کیا جاتا ہے جو ریاست کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہوں۔جسٹس عامر فاروق نے حیرت کا اظہار کیا کہ نیب کو مطلع کیے بغیر زلفی بخاری کو جلد بازی میں ملک سے باہر جانے کی اجازت کس طرح دی گئی۔

عدالت نے وزارتِ داخلہ کے سیکشن آفیسر سے دریافت کیا کہ جب زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں درج تھا تو انہیں عمرے کیلئے روانہ ہونے کی اجازت کیوں اور کیسے دی گئی۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر اعلیٰ عدالت کے احکامات کے باوجود وزارتِ داخلہ ای سی ایل سے نام خارج کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن اس معاملے میں اتنی پٴْھرتی دکھائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ اتنی ہی پھرتی عام لوگوں کے معاملے میں بھی دکھائی جائے بعد ازاں عدالت نے نیب اور وزارت داخلہ کو مذکورہ معاملے پر تحریری جواب داخل کرانے کی ہدایت کردی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہونے کے باوجود بیرونِ ملک سفر کرنے کے معاملے میں مداخلت کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب عدالت میں ایک اور پٹیشن کی بھی سماعت کی گئی جس میں زلفی بخاری کو نور خان ایئر بیس سے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پر وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے حکام کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔اس سلسے میں عدالت نے وزارت دفاع کو اس معاملے کی وضاحت پیش کرنے کیلئے عہدیدار بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت اگلے بدھ تک موخر کردی۔