وزیراعلی خیبرپختونخوا نے سیلاب کی روک تھام اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے سائنسی بنیادوں پر پلان وضع کرنے کی ہدایت کردی

جنگلات کی تباہی قدرتی ذخائر اور مجموعی ایکو سسٹم کیلئے بڑا چیلنج ہے ۔ حکومت کو وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی اور پانی کے قدرتی چینلز پر تجاوزات سے متاثرہ قدرتی حسن کو از سرنو بحال کرنے کیلئے قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے،نگران وزیراعلی خیبرپختونخوا

جمعرات جون 18:50

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے سیلاب کی روک تھام ، گلشیرز کے پگھلائو کو کم کرنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے سائنسی بنیادوں پر پلان وضع کرنے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر آزمودہ و تسلیم شدہ فارمولہ اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوںنے بحرانوں اور خطرات سے نمٹنے کیلئے قومی پالیسی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہاکہ جنگلات کی تباہی قدرتی ذخائر اور مجموعی ایکو سسٹم کیلئے بڑا چیلنج ہے ۔

حکومت کو وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی اور پانی کے قدرتی چینلز پر تجاوزات سے متاثرہ قدرتی حسن کو از سرنو بحال کرنے کیلئے قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے ۔ قدرتی وسائل و ذخائر خصوصا گلشیئرز کا تحفظ آنے والی نسلوں کی بقاء کیلئے انتہائی ناگزیرہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں مون سون بارشوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی پلان پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں پی ڈی ایم اے کے ہنگامی پلان ، متوقع مون سون بارشوں ، جان و املا ک کے ممکنہ نقصانات ، محکمہ ریلیف کی تیاریوں ، ریسکیو1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور ایمرجنسی کی صورت میں امداد و بحالی کے پلان پر تفصیلی بریفینگ دی گئی نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعات ظفر اقبال بنگش، وزیرقانون اسد الله چمکنی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ کرائسسزمینجمنٹ کیلئے ایک جامع تحقیق پر مبنی نتیجہ خیز پراجیکٹ کی معاون قومی پالیسی کا فقدان ہمارے قدرتی ذخائر کیلئے ایک بڑا خطرا ہے ۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ جب ہم اپنے قدرتی وسائل و ذخائر سے انصاف نہیں کرتے تو وہ ذخائر ہمارے لئے عذاب کا سبب بن جاتے ہیں۔ ہم اپنے کارناموں کی وجہ سے ایک بہت بڑی تباہی کے دہانے پہنچ چکے ہیں۔

ہمیں خطرات کو کم کرنے اور اُن پر قابو پانے کیلئے ابھی سے حرکت میں آنا ہو گا اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے ۔ انہوںنے جنگلات کی کٹائی کے ماحول پر منفی اثرات کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں جنگلات کے تحفظ کیلئے عوام کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی اور اُنہیں سہولیات دینا ہوں گی ۔ انہوںنے متعلقہ حکام کو سائنسی بنیادوں پر فیڈ بیک حاصل کرنے کیلئے تحقیقاتی مرکز کی منصوبہ بندی کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایلیٹ فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی ۔

نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ تیز رفتاری سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے گلشیرز پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں جس سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں جدید تحقیق سے استفادہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اپنے ایکو سسٹم اور قدرتی ذخائر کو درپیش خطرات کو قابو میں کرنے کیلئے ایک ریسرچ سنٹر کی اشد ضرورت ہے ۔ جس میں یورپی اور دیگر بین الاقوامی ممالک کے کامیاب تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔

دوست محمد نے کہاکہ جنگلات کی تباہی ہمارے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔ جنگلات کے تحفظ اور فطرتی حسن کو بحال کرنے کیلئے پالیسی گائیڈ لائن اور ضروری قانون سازی کرکے ایک جامع پلان تشکیل دیا جائے ۔ بین الاقوامی برادری اس سلسلے میں ہماری بڑی مدد کرسکتی ہے اور وہ پر عزم بھی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نگران حکومت کے پاس کم وقت اور محدود مینڈیٹ ہے اسلئے اس مختصر وقت میں آنے والی حکومت کیلئے گائیڈ لائنز ہی دے سکتی ہے۔

انہوںنے کہاکہ ماحول کو آلودہ کرنے والے صنعتی یونٹس اور وسیع پیمانے پر درختوں کی کٹائی بڑی توجہ کے حامل اُمور ہیں ۔ جنگلات کی کٹائی کو روکنے کیلئے مقامی لوگوں کو سستی بجلی اور گیس کی فراہمی معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔ انہوںنے اس موقع پر قدرتی ذخائر کے تحفظ سے متعلق ماہرین سے سوالات بھی کئے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر کئے گئے تجربات اور اُن کی کامیابی کی شرح معلوم کی ۔

انہوںنے اس سلسلے میں پالیسی گائیڈ لائن کا یقین دلایا تاہم انہوںنے ماہرین سے کہاکہ وہ ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں ماحول کو درپیش خطرات کے خلاف آگاہی پیدا کریں ۔ نگران وزیراعلیٰ نے دریائوں اور پانی کے قدرتی چینلز پر غیر قانونی تجاوزات کے خلاف اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی ۔ اُنہوںنے کہاکہ مون سون کی صورت میں یہ تجاوزات بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔

انہوںنے نالیوں کا پانی دریائوں اور نہروں میں پھینکنے سے بھی منع کیا ہے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو سادہ اور کم خرچ سہولیات جیسا کہ کوڑا دان، لیٹرین ، کیمپس ایریاز وغیرہ مہیا کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہاکہ ان سہولیات سے وسائل پیدا ہوں گے جو ہم اُنہی علاقوں کی ترقی پر خرچ کریں گے ۔ انہوںنے اس نیک مقصد کیلئے معاشرے کو مستعد کرنے کی ضرورت پر زور دیااورکہاکہ اس سلسلے میں محکمے کو پمفلٹ ، بینرز اوردیگر پبلسٹی ذرائع تیار اور استعمال کرنے چاہئیں اور عوام کو آگاہ کرنا چاہیئے کہ کونسی چیز قدرتی ماحول اور وسائل کیلئے کس حد تک نقصان دہ ہے ۔

اس سلسلے میں ہر محکمے کا ایک اپنا کردار ہے اسلئے کوئی ایک محکمہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا ۔ دوست محمد خان نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انسدادی اور آپریشنل دونوں سطح پر تربیت یافتہ افرادی قوت پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی جس میں ہر محکمے کو ذمہ داری تفویض کی جائے ۔ اس ٹاسک فورس کے پاس زندگی بچانے کی ادویات ، برن یونٹس اور دیگر مطلوبہ آلات موجود ہونے چاہئیں ۔

انہوںنے صوبے میں ہر ڈویژن کی سطح پر برن سنٹرز کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے ۔انہوںنے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں نقل مکانی کرنے والوں کی مستقل بحالی کا پلان وضع کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ دوست محمد نے کہاکہ دریائوں سے دور رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں عوام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے ۔ انہوںنے ہنگامی صورتحال میں خطرات سے دوچار ہونے والے ممکنہ علاقوں کا نقشہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

انہوںنے کہا کہ فوری وارننگ سسٹم میں پولیس کو بھی شامل کیا جا نا چاہیئے ۔ سیلاب کی تباہی کے دوران منصوبہ بندی کے تحت سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے متعلقہ محکمے میںمطلوبہ استعداد ہونی چاہیئے ۔ انہوںنے ایگزیکٹیو ریکارڈ کی فوری کمپیوٹرائزیشن کی ہدایت کی ۔ انہوںنے عوام کو ریلیف دینے اور اُنہیں غیر ضروری مقدمہ بازی سے بچانے کیلئے سنٹرل ریونیو ریکارڈ کی بھی ہدایت کی ۔

انہوںنے اس موقع پر ریسکیو1122 کی کارکردگی کو سراہااور کہا کہ پی ڈی ایم اے اور محکمہ زراعت کو بھی توقعات کے مطابق اپنی کارکردگی دکھانی چاہیئے ۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کی تیاری کے سلسلے میں پلان تیار کرلیا ہے ۔ موجودہ سال مون سون میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں تاہم حساس علاقوں کی پیشگی نشاندہی کی گئی ہے اور ممکنہ متاثرین کا اندازہ بھی لگایا جا چکا ہے ۔

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وسائل کی نشاندہی کے علاوہ تمام اضلاع میں مقامی سطح پر مون سون پلاننگ بھی مکمل کر لی گئی ہے ۔ ضلعی سطح پر متعلقہ محکموںنے امداد و بحالی کی سرگرمیوں کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں ۔ سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو تیا ر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور تمام ضروری اشیاء کی بروقت ترسیل اور دستیابی کے انتظامات بھی کئے گئے ہیں۔