غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ،کے الیکٹرک اور حیسکو کو ایک ہفتے میں حلف نامے جمع کرانے کا حکم

بجلی کی استعدادکار کو بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کیلئے سرمایہ کاری بھی کررہے ہیں،وکیل کے الیکٹرک جب تک کے الیکٹرک کا عملہ معاونت نہ کرے بجلی چوری نہیں ہوسکتی، کے الیکٹرک لکھ کردے کہ اب پلانٹ بند نہیں ہونگے ،چیف جسٹس

جمعرات جون 18:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سپریم کورٹ نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ سے متعلق مقدمے میں کے الیکٹرک اور حیسکو کو ایک ہفتے میں حلف نامے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔جمعرات کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں ہونے والی غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔عدالت میں کے الیکٹرک، حیسکو حکام سمیت دیگر پیش ہوئے۔

معاملے پر کے الیکٹرک کے چیف ڈسٹربیوشن آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ بجلی کی استعدادکار کو بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے جسکے لئے سرمایہ کاری بھی کررہے ہیں۔عدالت کو کے الیکٹرک کے وکیل نے بتایا کہ طلب 3500 میگا واٹ جبکہ 2950 میگا واٹ مل رہی ہے۔کے الیکٹرک 3 کیٹیگری میں لوڈ شیڈنگ کررہی ہے۔علاقے کے حساب سے لوڈشیڈنگ کے دورانئے کا تعین کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لوڈشیدنگ کی وجہ کنڈا سسٹم نہیں بلکہ نظام کو بہتر نہیں بنانا ہے۔بتایا جائے کہ بوسیدہ نظام میں بہتری کے لئے ابتک کیا اقدامات اٹھائے گئے۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ جب تک کے الیکٹرک کا عملہ معاونت نہ کرئے بجلی چوری نہیں ہوسکتی، کے الیکٹرک لکھ کردے کہ اب پلانٹ بند نہیں ہونگے اگر پلانٹ بند ہوئے تو حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دوران سماعت بینچ میں شامل فاضل جج جسٹس سجاد علی شاہ نے ریماکس دیئے کہ جو لوگ بل ادا کررہے ہیں انکا کیا قصور ہے انہیں بھی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان کا سماعت کے موقع پر ریماکس میں کہنا تھا کہ لوگوں نے قرضے معاف کرائے ہیں اور قرضے معاف کرانے کے بعد ایسے مظلوم بن جاتے ہیں جیسے انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہ ہوںاور پھر انکے خلاف تحقیقات کرائی جائیں تو انکے پاس بی ایم ڈبلیو، وی ایٹ اور نہ جانے کون کون سی گاڑیاں نکل آتی ہے۔

چیف جسٹس کا ریماکس میں مزید کہنا تھا کہ میں نہیں سپریم کورٹ چاہتی ہے قوم مقروض نہ ہو۔قرضے معاف کرانے والے اپنی زندگی اور عاقبت خراب کرچکے ہیں۔عدالت نے کراچی میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر کے الیکٹرک اور حیسکو کو ایک ہفتے میں حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔