شہید سکندرآباد کے عوام کے ساتھ ہمارا دیرینہ تعلق ہے، عوام نے ہمیشہ تخت جھالاوان کا ساتھ دیا ہے،نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری

جمعرات جون 19:10

قلات(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) مسلم لیگ (ن )قلات کے صدر سینیٹر نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ شہید سکندرآباد کے عوام کے ساتھ ہمارا درینہ تعلق ہے یہاں کے عوام نے ہمیشہ تخت جھالاوان کا ساتھ دیا ہے،سوراب کو ڈسٹرکٹ کے درجہ ملنے سے ان کے مسائل ان کے دہلیز پر حل ہو نگے ،،پانی کے مسئلہ کو حل کر نے کے لئے آٹھ واٹر سپلائی اسکیم ،،شہید سکندرآباد سوراب میں لگائیں زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے کے لئے چیک ڈیم بنائیں ،سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتی کسی بھی سیاسی جماعت سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز انجیرہ میں قلات کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،مسلم لیگ (ن )قلات کے صدر سینیٹر نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ میری بہت پہلے سے کوشش تھی کہ سوراب کو ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا جائے اس کے لئے میں نے اس وقت بھی کوشش کی جب میں ضلع ناظم قلات تھے مگر ہماری کوشیش رنگ لائیں اور ہم نے سوراب کو ڈسڑکٹ کا درجہ دینے میں کامیاب ہو گئے ،انہوں نے کہا کہ شہید سکندر آباد سوراب کو ڈسڑکٹ کا درجہ ملنے سے یہاں کے عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل ہو نگے اور سب سے بڑھ کر یہاں کے عوام کو ملازمتوں میں ان کا پوراحق ملے گا ،انہوں نے کہا کہ شہید سکندر آباد سوراب کے عوام کے ساتھ ہمارا درینہ تعلق ہیں تخت جھالاوان میں بیٹھ کر ہم نے یہاں کے عوام کی قبائلی تنازعات اور مسائل حل کیئے ہیں یہاں کے عوام نے ہر الیکشن میں ہمارا ساتھ دیا ہیں میں نے اور میرے بڑے بھائی نواب ثناء اللہ خان زہری نے جس شخص کی ہمایت کی ہیں یہاں کے عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب کیا ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں بحیثیت سینیٹر مجھے فنڈز بالکل نہیں ملے مگر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے اپنے خصوصی فنڈ سے مجھے فنڈز دیئے جس سے میں نے شہید سکندر آباد سوراب میں 8 واٹر سپلائی اسکیم لگائے ،سڑکوں کو پختہ کیا ،مختلف کلیوں کو بجلی فراہم کئے اور جہاں ٹرانسفارمر کی ضرورت تھی وہاں ٹرانسفارمر لگا ئیں،گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس لگائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہو تی ہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ایڈ جسٹمنٹ ہو سکتی ہے اس کے لئے ہماری جمعیت علماء اسلام اور نیشنل پارٹی سے بات چیت ہو رہی ہے ۔