پاک بھارت میچ میں جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیتے گی، ہاکی لیگ اور لوکل ٹورنامنٹس کے انعقاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، چیمپئنز ٹرافی کو ختم کرنا افسوس ناک ہے، شہناز شیخ

جمعرات جون 19:30

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پاکستانی ہاکی لیجنڈ شہناز شیخ نے کہا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ دلچسپ ہوگا، جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیتے گی، ہاکی لیگ اور لوکل ٹورنامنٹس کے انعقاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، چیمپئنز ٹرافی کو ختم کرنا افسوس ناک ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں شہناز شیخ نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں دنیا کی بہترین ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، قومی ٹیم نے ایونٹ کیلئے بھرپور تیاری کی ہے، ہالینڈ میں بھی پریکٹس میچز کے علاوہ تربیتی کیمپ لگایا گیا، توقع ہے کہ ٹیم اچھے نتائج دے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اٹیکنگ ہاکی کھیلنی چاہئے۔ پاک بھارت میچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے کھیلنے کا سٹائل ایک جیسا ہے، جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیت جائے گی۔

(جاری ہے)

ماڈرن ہاکی میں گول کیپر کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، اس کے علاوہ پنلٹی کارنر بھی انتہائی اہم ہے، دونوں شعبوں میں پاکستان کو غیر معمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میری کوچنگ میں 16 سال بعد پاکستان نے 2014 کے ایڈیشن میں فائنل تک رسائی حاصل کی، بھارت کو اس کی سرزمین پر شکست دی۔ شہناز شیخ نے کہا کہ فیڈریشن کی طرف سے یہ بیان افسوس ناک ہے کہ چیمپئنز ٹرافی ایشین گیمز کی تیاری کیلئے ہے، انٹرنیشنل ایونٹس تیاری کیلئے نہیں ہوتے بلکہ ان ٹورنامنٹس میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منفی بیانات سے کھلاڑیوں کا بھی مورال ڈائون ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کے ایشین گیمز اولمپک گیمز کی کوالیفکیشن کیلئے بڑا ٹورنامنٹ ہے۔ ہاکی کی بہتری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سکول اور کالج میں ہاکی بالکل ختم ہو گئی ہے، فیڈریشن نے بھی لوکل ٹورنامنٹس کے بجائے اپنی تمام تر توجہ انٹرنیشنل ایونٹس پر رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آرہا۔

انہوں نے کہا کہ ہاکی کی بہتری کیلئے فیڈریشن کو غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ قومی سطح پر کم از کم 6 اکیڈیمز بنائی جائیں جنہیں میرٹ کی بنیاد پر چلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاکی لیگ کا انعقاد ناگزیر ہے، فیڈریشن کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد ہاکی لیگ کا انعقاد کرے، اگر پاکستان میں ہاکی لیگ شروع ہو جاتی ہے تو اس سے گراس روٹ لیول پر بہت فائدہ ہوگا، نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، نوجوان کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل پلیئرز کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا موقع ملے گا۔

شہناز شیخ نے کہا کہ بھارتی لابی کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی کو ختم کیا جا رہا ہے جو کہ افسوس ناک ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چاروں بڑے ایونٹس ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی، جونیئر ورلڈ کپ اور ایشیا کپ متعارف کرائے اور چاروں افتتاحی ٹورنامنٹ پاکستان نے جیتے جو کہ ورلڈ ریکارڈ ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہاکی اس وقت مشکلات کا شکار ہے، مدد کے بجائے انتقامی کاروائیاں کی جار رہی ہیں، یہ قوم اور ہاکی فیڈریشن کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منفی ہتھکنڈوں سے پاکستان میں ہاکی کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔