موجودہ ملکی معاشی صورتحال لمحہ فکریہ ہے،عمران خان نے تبدیلی کے نام پر خیبر پختونخوا کے عوام کا دھوکا دیا،پی ٹی آئی کا ایک کروڑ نوکریاں اور 100دن کا پلان دوسرا ڈرامہ ہے ، پاناما کے نام پر ملک میں تھیٹر لگایا گیا،ہمارے خلاف یکطرفہ احتساب چل رہا ہے،عوام نے یکطرفہ احتساب کو مسترد کر دیا،ز رداری صادق و امین اور نوازشریف کرپٹ،عوام ایسے احتساب کو نہیں مانتے ،ختم نبوت قانون کو مسلم لیگ ن کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا،ویژن 2025پاکستان کو خطے کا مرکز بنا دے گا، (ن)لیگ نے 4سال میں 10ہزار میگا وار ٹ بجلی پید ا کی

مسلم لیگ(ن)کے رہنما ئوں احسن اقبال اور طارق فضل چوہدری کانیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں مشترکہ پریس کانفر نس سے خطاب

جمعرات جون 19:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما ئوں اور سابق وفاقی وزراء احسن اقبال اور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی معاشی صورتحال لمحہ فکریہ ہے،،عمران خان نے تبدیلی کے نام پر خیبر پختونخوا کے عوام کا دھوکا دیا،پی ٹی آئی کا ایک کروڑ نوکریاں اور 100دن کا پلان دوسرا ڈرامہ ہے،،عمران خان کے پی کے میں ایک یونیورسٹی نہ بنا سکے،وفاقی حکومت نے ملک کے مختلف حصوں میں 45نئی یونیورسٹیاں اور کیمپس بنائے، پاناما کے نام پر ملک میں تھیٹر لگایا گیا،ہمارے خلاف یکطرفہ احتساب چل رہا ہے،عوام نے یکطرفہ احتساب کو مسترد کر دیا،ز رداری صادق و امین اور نوازشریف کرپٹ،عوام ایسے احتساب کو نہیں مانتے۔

ختم نبوت قانون کو مسلم لیگ ن کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا،ویژن 2025پاکستان کو خطے کا مرکز بنا دے گا،ملک میںگزشتہ 66سالوں میں 18ہزار میگا وارڈ بجلی پیدا کی گئی ،(ن)لیگ نے 4سال میں 10ہزار میگا وار ٹ بجلی پید ا کی، نوے کی دہائی میں ہماری ترقی کی رفتار بھارت اور بنگلہ دیش سے بہت بہتر تھی،آج بھارت اور بنگلہ دیش پاکستان سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ جمعرات کو نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں مشترکہ پریس کانفر نس سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور سابق وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ پچھلے 66سالوں میں 18ہزار میگا وارڈ بجلی پید کی گئی تھی جبکہ(ن)لیگ کی حکومت نے 4سال میں 10ہزار میگا وار ڈ بجلی پید ا کی ہے۔ مختلف ترقیاتی پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور سڑکوں سمیت پانی کے منصوبے مکمل کیے۔

ملک میں 45ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام کیا۔ 17500کلومیٹر سڑکوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا،ان کا کہنا تھا کہ ویژن 2025 پاکستان کو خطے کا مرکز بنا دے گا۔ اب پاکستان کو صنعتی معیشت میں تبدیل کرنا ہے صنعتی معیشت بننے کے لیے توانائی کے منصوبے بہت ضروری ہے۔ عمران خان کے پی کے میں یونیورسٹی نہ بنا سکے،وفاقی حکومت نے یونیورسٹیاں اور کیمپس قائم کیے۔

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کے پاس کے پی کے میں یونیورسٹیاں بنانے کے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔۔عمران خان سوالوں کے جواب میں کہتے ہیں میں فیس بک پر بہت مقبول ہوں۔وفاقی حکومت نے فاٹامیں یونیورسٹی شروع کی۔ ملک کے مختلف حصوں میں 45نئی یونیورسٹیاں اور کیمپس بنائے۔نوجوانوں کے چیمپئین بننے والے عمران خان نے کے پی میں نوجوانوں کے لیے کچھ نہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے ملک میں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی لائی۔وفاقی حکومت نے چین کے ساتھ معاشی شراکت داری قائم کی۔آج دنیا کا ہر ملک پاکستان کے سی پیک منصوبے میں شامل ہونا چاہتا ہے،،سی پیک نے پاکستان کو دنیا کے ساتھ مثبت حوالے سے جوڑا ہے۔سابق فا قی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آئندہ الیکشن عوام کا امتحان ہے۔فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ ترقی کا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

اگر تبدیلی آئی تو 45ارب ڈالر ترقی کے منصوبے خطرے میں پڑ جائیں گے۔ ترقی کی شرح 3سے بڑھا کر 6 فیصد کی۔۔عمران خان ایک کروڑ نوکریوں کے لیے ترقی کی شرح 8فیصد پر لے جانی ہو گی، تحریک انصاف 13سینیٹرز کے ساتھ کونسی ترقی یا قانون سازی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا عمران کو ووٹ دینا زرداری کو ووٹ دینا ہے۔ ملک کو چلانے کے لیے تجربہ کار لوگ چاہئے۔

پاناما کے نام پر ملک میں تھیٹر لگایا گیا۔ہمیں سیاسی عدم استحکام سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمارے خلاف یکطرفہ احتساب چل رہا ہے۔عوام نے یکطرفہ احتساب کو مسترد کر دیا ہے۔ز رداری صادق و امین اور نوازشریف کرپٹ،عوام ایسے احتساب کو نہیں مانتے۔ختم نبوت قانون کو مسلم لیگ ن کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ملک کے اندر بے یقینی پیدا کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو استحکام بخشنا ہیں تو ن لیگ اور پالیسیوں کے تسلسل کو ووٹ دیں۔