لانڈھی ملیر جیل قیدیوں اور ان کے رشتہ دار وں کیلیے جہنم اور جیل اہلکاروں کیلیے ناجائز کمائی کی فیکٹری بن گئی

جیل میں موجود فوٹو کافی والا بھی ملاقاتیوں سے سامان کیلیے لکھی ہوئی پرچی اور لفافہ کے اور ملاقات فارم کے 50 روپے فی قیدی کے حساب سے وصولی کرتے ہیں

جمعرات جون 20:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ملیر جیل میں موجود فوٹو کافی والا بھی ملاقاتیوں سے سامان کیلیے لکھی ہوئی پرچی اور لفافہ کے اور ملاقات فارم کے 50 روپے فی قیدی کے حساب سے وصولی کرتے ہیں لانڈھی ملیر جیل قیدیوں اور ان کے رشتہ دار وں کیلیے جہنم اور جیل اہلکاروں کیلیے ناجائز کمائی کی فیکٹری بن گئی اور جو اہلکار مین گیٹ پر تعینات ہیں وہ اہلکاران ملیر جیل پر آنے والے ملاقاتیوں کے موبائیل فون رکھتے ہیں پھر واپسی 30 روپے کے حساب سے کرتے ہیں ملیر جیل کے منشیات فراہم کرنے والوں اہلکاروں میں سے ایک اہلکار ارشد عرف چریا جس کی نائٹ ڈیوٹی ہوتی ہے اس اہلکار کے پاس ملیر جیل کے تمام نشے کے عادی قیدیوں کے اہلخانہ کے فون نمبر ہیں ارشد صاحب ان قیدیوں کے گھر والوں سے مطلوبہ قیدیوں کی فون پر بات کرواکر ایک ہفتے کی منشیات رات کی ڈیوٹی فراہم کرادیتا ہے اور اگلے دن ان کے گھر والوں سے پیسہ وصول کرلیتا ہے ملیر جیل کا اہلکار طارق عرف گجر جس کی ڈیوٹی تلاشی کی ہے جیل پر آنے والے ملاقاتیوں کے سامان کی تلاشی کے نام پر فی سامان کی تھیلی پر 50 روپے اور قیدی کو اس کے اہلخانہ کی طرف سے دیے گئے 1000 روپے سے 200 کے حساب سے الگ لیتا ہے اسی طرح کورٹ سے واپسی پر 350 قیدیوں سے فی قیدی 50 روپے الگ تلاشی کے نام پر لیتا ہے اگر قیدی کے پاس 1000 روپے ہیں تو اس کے حساب سے 200 روپے الگ لیتا ہے آج اس اہلکار کی شاہ لطیف ٹاؤن میں 25 دکانیں 12 پلاٹ اور 4 سنگل اسٹوری کے مکان ہیں اسپیشل ملاقات فیس ٹو فیس کے 3500 روپے لیتے ہیں 40 منٹ کی ملاقات ہوتی ہے ایسے اسپیشل ملاقات دن میں 12 یا 13 دفعہ ہوتی ہے جناب سپاہی مقصود ملیر جیل کا جس کی ڈیوٹی ملاقات روم پر ہے جلدی ملاقات والوں سے شارٹ پرچی کے نام 200 روپے لیتا ہے بغیر نمبر ملاقات کراتا ہے اور جلدی ملاقات کرواتا ہے جس کے پیسے نہیں وہ نمبر کے حساب ملاقات کریگا ملیر جیل کے اہلکار ارشاد ماڑی گیٹ پر ڈیوٹی دیتے ہیں جو قیدی کورٹ سے واپسی آتے ہیں اگر 100 کا نوٹ ارشاد صاحب کو دینگے تو اس کو ماڑی کے اندر لے کر بٹھاتا ہے جو قیدی نہیں دیتے تو ماڑی کے باہر گرم دھوپ میں زمین پر اپنی باری کا انتظار کرتے رہینگے ملیر جیل کے ماڑی کے منشی افتخار صاحب بھی پیسے دینے والوں کو اچھی جگہ اوپر سب سے پھلے بٹھاتے ہیں نہ دینے والوں کو زمین پر سب کے آخر میں بٹھاتے ہیں ملیر جیل میں کراٹین نامی ایک تشدد خانہ ہے جس میں نئے آنے والوں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے پرانے اور سزایافتہ قیدیوں کے ہاتھوں سے ان پر تشدد اور اذیت دیا جاتا ہے تب تک جب تک اس کے گھر والوں سے فی کیس 25000 کے حساب سے وصولی نہ ہوجائے ان کے گھر والوں کو فون کرواکر ان قیدیوں کی چیخیں سناکر ان کے گھر والوں کو مجبور کردیا جاتا ہے اور منہ کھولنے پر ان کے قیدی کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر ڈرا دھمکا کر خاموش اور بلیک میل کردیا جاتا ہے ملیر جیل کا بابو امیر بیگ صاحب جو کہ جرمانہ کا پیسہ لیتا ہے مگر اگر اوپر مٹھائی کے پیسے دوگے تو تو ملزم کو اسی وقت ریلیز کردیگا نہیں تو اس کو اگلے دن چھوڑے گا ایک اور ملیر جیل کا سینیر کلرک خالد بابو جسکا کام ہے کہ جن قیدیوں کو تاریخ پر برائے پیشی جج صاحبان روانہ کورٹ کرنا ہوتا ہے ان قیدیوں پر بولی لگتی ہے جو قیدی پیسے نہیں دے گا وہ کورث برائے پیشی نہیں جائے گا چاہے اس دن کو اس قیدی کو جج صاحب نے بلایا ہی کیوں نہ ہو خالد بابو پرائزن وین کی کمی کا بہانہ بناکر جان چھڑا لیتے ہیں اور جناب پیر بابو صاحب ملیر جیل کے جن ملزمان کو عدالت کی جانب سے مطلوبہ کیسوں مقدموں میں سزا ہوجاتی ہے تو ان قیدیوں کو جیل بدلی کے سلسلے میں بلیک میل کرتا ہے اگر قیدی تگڑا پیسے دینے والا ہے تو وہ سزا کے باوجود بھی لانڈھی جیل میں رہے گا اگر سزا یافتہ غریب قیدی ہے اور کچھ دے نہیں سکتا تو اس کو فٹافٹ جیل بدلی کرادیتا ہے ملیر جیل کے اندر تعینات اہلکاروں کے بھی مزے غریب قیدیوں کے معمولی غلطی پر ان کے بیرک چینج کردیے جاتے ہیں پھر واپس اپنی بیرک میں آنے کیلیے 5.000 روپے جرمانہ دینا پڑتا ہے اسی طرح جیل میں کسی بھی قیدی کا دوسرے قیدی سے معمولی تلخ کلامی پر ان کو سیل وارڈ کردیاجاتا ہے 7 دن تک جہاں قیدی سب کچھ کھڑے کھڑے کرتا ہے سیل وارڈ سے نکلنے کیلیے بھی 3000 روپے دینا پڑتے ہیں اور جناب جیلر اشیاق صاحب اگر کوئی تھانے والے کسی ملزم کو بحکم جج صاحب جیل کسٹڈی کیلیے ملیر جیل لاتے ہیں تو جیلر اشتیاق صاحب اس ملزم کا بیک گراؤنڈ چیک کرکے معلوم کرکے اس لیے واپس کرادیتے ہیں کیونکہ وہ کراٹین میں بھی رہ کر گھر والوں پیسے نہیں منگوا سکے گا تو اس ملزم کو ملیر جیل میں کسڈی نہیں ہونے دیتے اور متعدد بہانے بناکر کہ ملزم بیمار ہے نشئی ہے فلاں فلاں کرکے واپس کروادیتے ہیں

(جاری ہے)