چھا جملہ اور لطیف بات صرف اسی صورت میںکہی جاسکتی جب ہم اپنی تحریر کو تہذیب کے دائرے میں رکھیں گے،اصغر ندیم سید

جمعرات جون 20:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اچھا جملہ اور لطیف بات صرف اسی صورت میںکہی جاسکتی جب ہم اپنی تحریر کو تہذیب کے دائرے میں رکھیں گے،یہ گُر سیکھنے کے لئے نئی نسل کو مشتاق احمد یوسفی کی تحریر کی طرف رجوع کرنا پڑئے گا۔ان خیالات کا ا ظہار اصغر ندیم سید نے الحمراء کے آرٹس کونسل کے زیر اہتمام گوشئہ گیان کی نویں نشست میں ملک کے مایہ ناز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ مشتاق احمد یوسفی کی نثر میں بھی وہی طاقت ہے جو ان کی مزاح نگاری میں ہے ،چیئرمین الحمراء توقیر ناصر نے گوشئہ گیان کی نشست میں پاکستان ڈرامہ کے سنہری دور کی یاد یں تازہ کیں اور کہا کہ سماجی و معاشرتی اصلاح میں ڈرامہ کا کردار نہایت کلیدی رہا ہے، مجھے پاکستانی ڈرامے کا حصہ ہونے پر ناز ہے ،کردار کی مضبوطی اچھے سکرپٹ کی مرہنوں منت ہوتی ہے ،انھوں نے بھی تقریب میں مشتاق احمد یوسفی کی خدمات کوسراہا۔

(جاری ہے)

ایگزیکٹوڈائریکٹر کیپٹن(ر)عطاء محمد خان تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا گوشئہ گیان اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ موسیقی کے عالمی دن کے حوالے سے نہ صرف اس کا اہتمام کیا گیا بلکہ معروف طنز و مزاح کی عظیم شخصیت مشتاق احمد یوسفی کے فن پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔انھوں نے مزید کہا کہ فنون لطیفہ میں ایسے نام پیدا ہو رہے ہیں جن پر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں گی۔تقریب میں نامور شاعر نجیب احمد ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن آفتاب احمد انصاری کے علاوہ لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض نیاز حسین لکھویرا نے ادا کئے۔

متعلقہ عنوان :