ایون فیلڈ ریفرنس، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری

قطری شہزادے کا نواز شریف کیس سے کوئی تعلق نہیں ،جے آئی ٹی ایک تفتیشی ایجنسی تھی، تفتیشی ایجنسی تفتیش کیلئے قانون وضع کرتی ہے ،تفتیش اور عدالتی کارروائی دو الگ الگ مراحل ہیں ، کوئی نتیجہ اخذ کر ناجے آئی ٹی کا اختیار نہیں، خواجہ حارث کے دلائل سماعت آج صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی

جمعرات جون 20:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) شریف خاندان کیخلاف نیب کی جانب سے دائر کردہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جمعرات کے روز بھی جاری رہے، انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قطری شہزادے کا نواز شریف کیس سے کوئی تعلق نہیں، قطر میں جے آئی ٹی کی طرف سے کئی گئی خط وکتابت نواز شریف سے متعلق نہیں،جے آئی ٹی ایک تفتیشی ایجنسی تھی، تفتیشی ایجنسی تفتیش کیلئے قانون وضعکرتی ہے کیا قابل قبول شہادت ہے اور کیا نہیں ،یہ معمول کا کوئی کیس ہوتا تو معاملہ تفتیش کیلئے نیب کے سپرد کیا جانا تھا، نیب تفتیش کر تا اور پھر ریفرنس دائر ہوتا عدالت نے جے آئی ٹی کو نیب اور ایف آئی اے کے اختیارات بھی دئیے، عدالتی حکم کے مطابق جے آئی ٹی ایک مکمل تفتیشی ایجنسی تھی جے آئی ٹی نے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا تھا، تفتیش اور عدالتی کارروائی دو الگ الگ مراحل ہیں، تفتیش کے دوران جمع کیے گئے مواد کی روشنی میں نتائج عدالت میں اخذ ہوتے ہیں، نتائج بھی تفتیشی ایجنسی نکال دے تو استغا ثہ کا کام کیا رہ جاتا ہی ۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ نے بھی جے آئی ٹی کے جمع کئے گئے مواد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا جے آئی ٹی سربراہ کے اخذ کئے گئے نتائج اور رائے قابل قبول شہادت نہیں، استغاثہ 161کے بیان کو اپنے فائدے کیلئے استعمال نہیں کر سکتا ملزم اگر چاہئے تو 161کے بیان کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کر سکتا ہے، بیان کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ ثبوت کے طور پر نہیں پیش کی جاسکتی، جے آئی ٹی سربراہ کاکام صرف تفتیش کرکے مواد اکٹھا کرنا تھا، کوئی نتیجہ اخذ کر ناجے آئی ٹی کا اختیار نہیں، خواجہ حارث نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جن گواہان کا ذکر واجد ضیاء نے اپنے بیان میں کیا ا نہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، قانون شہادت کے تحت ان گواہان کا عدالت میں ہونا ضروری تھا، واجد ضیاء ا ن گواہان کی جگہ خود گواہی نہیں دے سکتے، قانون شہادت کے تحت گواہ وہی چیز بتا سکتا ہے جو اس نے دیکھا ہو کسی اور کی دیکھی ہوئی چیز پر گواہی نہیں دے سکتا، جے آئی ٹی رپورٹ میں پورا مقالہ لکھا گیا ہے کہ فلاں فلاں نے جھوٹ بولا ہے اس بات کا تعین عدالت شواہد کے بعد کرتی ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے، حسن اور حسین نواز کے جے آئی ٹی کے سامنے بیانات اعتراف کے زمرے میں نہیں لیے جاسکتے کسی شریک ملزم کا 161کا بیان ملزم کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا صرف اعترافی بیان کو ہی ملزم کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، حسن اور حسین نواز نے اپنے بیانات میں نواز شریف کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکے روبرو اپنے دلائل دے رہے ہیں ، سماعت آج بروز جمعہ صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

۔