میرا کوئی ذاتی گھر نہیں ہے،وراثت میں ایک پلاٹ ملا ہے ،ْدوست محمدخان

سپریم کورٹ ممبر شپ کیلئے دولاکھ روپے جمع کرائے ہیں تاہم ابھی تک پلاٹ نہیں ملا ،ْنگران وزیراعلی خیبرپختونخوا

جمعرات جون 20:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے اپنے اثاثہ جات کے حوالے سے خبروں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیئے گئے اثاثہ جات اُن کی 2016-17 کی تنخواہ کے حوالے سے ہیںجن میں سے تقریباً25 لاکھ روپے ٹیکس کٹتا تھا ۔نگران وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ2005 میں پشاور ہائی کورٹ کی9 ججزسمیت اُن کو بھی سیکٹر جی۔

(جاری ہے)

14 اسلام آباد میں پلاٹ ملا تھا جس کے لئے انہوںنے پانچ لاکھ روپے جمع کئے ہیں جس کے آدھے بلاک پر ابھی تک انکروچمنٹ ہے اور اُنہیں ابھی تک حتمی الاٹمنٹ نہیں ملی جبکہ ہائوسنگ سوسائٹی کی طرف سے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے اخراجات ڈالے گئے ہیں۔ دوست محمد خان نے مزید واضح کیا کہ اُن کا تو ذاتی گھر بھی نہیں ہے ۔ وراثت میں اُن کے دوبھائیوں کو گھر ملا جبکہ اُنہیں گھر کے عوض ایک پلاٹ دیا گیا ۔ دوست محمد نے کہاکہ اُنہوںنے سپریم کورٹ ممبر شپ کیلئے دولاکھ روپے جمع کرائے ہیں تاہم ابھی تک پلاٹ نہیں ملا ۔