تحریک انصاف این اے 154 کے رہنمائوں اور کارکنوں کا بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا مسلسل پانچویں روز جاری

جمعرات جون 20:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف این اے 154 کے رہنمائوں اور کارکنوں کا بنی گالہ میںعمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا مسلسل پانچویں روز بھی جاری رہا ۔ کارکن یہ مطالبہ کرتے رہے کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ سکندربوسن لوٹا نے ابھی تک پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی اور بعض لوگ اسے پارٹی کا امیدوار بتاکر ہمار قائد عمران خان اور پارٹی کارکنان کی توہین نہ کریں۔

ہمارا دھرنا اور احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہماری قومی اور صوبائی نشستوں کا فیصلہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ مظاہرے میں شریک ایک کارکن نے کہا کہ پارٹی کے بعض لیڈر عمران خان کو اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کررہے ہیں ۔ نجانے وہ کن مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے قیادت سے حقائق چھپا رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

عمران خان کو دھرنے کے شرکا سے ملنے سے روکا جارہا ہے کیونکہ ان دو نمبر نام نہاد لیڈروں کو ڈر ہے کہ ان کا جھوٹ پکڑا نہ جائے ۔

عمران خان کو چاہئیے کہ وہ اپنے کارکنوں سے دور رہنے کی بجائے ان سے ملیں ۔ ایک اور کارکن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم حق پر ہیں اور اپنا حق لے کر رہیں گے ۔۔عمران خان کو کارکنان سے دور کرنے والے جان لیں کہ یہ دھرنا اور احتجاج کسی بھی طور پاکستان تحریک انصاف کے لئے ںہثر نہ ہے ، ایک کارکن نے بتایا کہ آج پاکستان تحریک انصاف جنوبی ریجن پنجاب کے سیکرٹری جنرل عون عباس بپی نے شاہ محمود قریشی کی جانب ٹکٹوں کی غلط تقسیم کو پارٹ کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے دھرنا دینے والے کارکنان کو مظلوم کہ دیا ہے ۔

یہ ہمار موقف کی تائید ہے، عون عباس بپی نے شام کو ملتان میں پریس کانفرنس کے ہے روہی چینل پر نشر ہو چکی ہے ۔چینل 24پر شاہ محمود کو سکندر بوسن کی شمولیت کے حوالے سے سرگرم بتایا گیا ہے۔