سیاسی و کشمیری رہنمائوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور تجزیہ کاروں کا اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی کشمیر کے حوالہ سے رپورٹ کا خیرمقدم

49 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کیلئے کمیشن آف انکوائری قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے

جمعرات جون 20:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سیاسی و کشمیری رہنمائوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور معروف تجزیہ کاروں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی کشمیر کے حوالہ سے رپورٹ کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کیلئے کمیشن آف انکوائری قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس کی 49 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ماضی میں کی گئی اور جاری خلاف ورزیوں کا مسئلہ حل کرنے اور کشمیری عوام کو انصاف دینے کی فوری ضرورت ہے۔ سیاستدانوں، کشمیری رہنمائوں، معروف تجزیہ کاروں، دفاعی اور عالمی امور کے ماہرین نے اس رپورٹ کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق زید الحسین نے کہا ہے کہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ کمیشن آف انکوائری اقوام متحدہ کا اعلیٰ سطحی تحقیقات کا فورم ہے جو عام طور پر تنازعہ شام جیسے بڑے بحرانوں کیلئے مخصوص ہے۔ بھارت نے اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری کردہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا تفصیلاً ذکر ہے بالخصوص 8 جولائی 2016ء کو برہان وانی کی شہادت کے بعد بے تحاشا طاقت کے استعمال، ہلاکتوں، پیلٹ گن کا استعمال اور اس کے نتیجہ میں کشمیری نوجوانوں کو بینائی سے محروم کرنا، غیر قانونی طور پر گرفتاریوں، نظر بندیوں، جنسی تشدد اور گمشدگیوں کا تذکرہ اور تفصیلاً کیا گیا ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے مزید کہا کے ہندوستان نے متعدد بار اقوامِ متحدہ کے کمیشن آفس کی درخواستوں کو رد کر چکا ہے جو کمیشن نے مقبوضہ کشمیر تک رسائی دینے کیلئے دی تھیں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہندوستان حقائق کو چھپانا چاہتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالے رکھنا چاہتا ہے۔صدر مسعود خان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے مقبوضہ کشمیر میں غیر مشروط طور پر رسائی دینے کی درخواست کی ہے تاکہ انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لے سکے۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ انسانی حقوق کے کمشنر نے آزاد کشمیر کے لوگوں، مقبوضہ کشمیر کے لوگوں اور پاکستان کے لوگوں کی طرح ہندوستانی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔صدر آزاد کشمیر نے ان سفارشات کی توثیق کی کہ مقبوضہ کشمیر کے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ 1990ء کو ختم کیا جائے۔

اگرچہ یہ سفارش کی ہے کہ ہندوستان کے پبلک سیفٹی ایکٹ 1998ء میں ترمیم کی جائیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کالے قانون کو جسے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لاقانونیت پر مبنی قانون ''lawless laws'' قرار دیا ہے اسے فوری طور پر سرے سے ختم کیا جائے۔ یہ دونوں قوانین اور ان سے ملتے جلتے دیگر قوانین ہی در اصل ہندوستانی افواج کو ظلم و استبداد کا بازار گرم کرنے کہ لائسنس دیتے ہیں۔

صدر مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشنر کی ان سفارشات کو روشنی میں ہندوستان کو سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کر دینا چاہئے اور ان تمام پابندیوں کو بھی ختم کر دینا چاہئے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو انٹرنیٹ و موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں اور صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور اخبارات کی اشاعت پر پابندی ہے۔

صدر مسعود خان نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کمیشن کی سفارشات کے تحت مقبوضہ کشمیر میں ایک آزادانہ اور غیر جاندرانہ اور معتبر تحقیقات کا آغاز کیا جائے تاکہ دنیا کو یہ پتہ چل سکے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان مسز روشن خورشید بروچا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹ سے عالمی دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں، پاکستان مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو دنیا کے تمام فورمز پر بااحسن اندازسے سرانجام دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ ایل او سی کے دونوں اطراف میں رہنے والے اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور پاکستان اس وقت تک نہتے کشمیریوں کی آواز اٹھاتا رہے گا جب تک ان کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا حق خود ارادیت نہیںمل جاتا۔ کشمیری رہنما پروفیسر شمیم شال نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مثبت اقدام قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی برادری نے بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ادراک کرتے ہوئے کشمیری عوام کیلئے آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ بھارتی جمہوری اقدار پر ایک سوالیہ نشان ہے اور اس کے مظالم اور جھوٹے دعوے بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکنے کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر رشید احمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ نے بار بار مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا کہا ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ انکار کیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار عبدالله گل نے اس حوالہ سے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرے گا، اقوام متحدہ کو اس معاملہ کی ضرور تحقیقات کرنی چاہئیں اور بھارت کو معصوم لوگوں کے قتل سے روکنے کیلئے دبائو بڑھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف ذرائع اور مناسب سفارتکاری کے ذریعے کشمیر کے مسئلہ کو ہر فورم پر اجاگر کر سکتا ہے۔